سعودی عرب کی بیمہ صنعت میں 2022ء کی تیسری سہ ماہی میں 26.8 فی صد نمو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں انشورنس کمپنیوں نے 2022 میں مجموعی تحریری پریمیم (جی ڈبلیو پی) 10.45ارب ڈالر (39.28 ارب سعودی ریال) کے ساتھ اپنی اعلیٰ شرح نمو کی رفتار کو جاری رکھا ہے۔2022 کی تیسری سہ ماہی میں اس میں سال بہ سال کی بنیاد پر26.8 فی صد اضافہ ہوا ہے۔یہ اعدادوشمار سعودی عرب میں کے پی ایم جی نے اپنی تازہ ’’انشورنس پلس‘‘رپورٹ میں فراہم کیے ہیں۔

اس رپورٹ میں 30ستمبر2022 کوختم ہونے والی نو ماہ کی مدت میں زیادہ ترزمروں میں نمو کی اطلاع دی گئی ہے۔موٹراورطبی شعبے جی ڈبلیو پی اور خالص انڈررائٹنگ آمدن میں بالترتیب 78 فی صد اور 66 فی صد کی سب سے بڑی شراکت کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ کے پی ایم جی کے مطابق 2022 کے پورے سال کے لیے اسی طرح کا رجحان متوقع ہے۔

انشورنس مارکیٹ کے تقابلی نتائج میں2022 کی پہلی شش ماہی تک اتارچڑھاؤنظرآتا تھا لیکن اب اس میں نقصان کے تناسب اورزکوٰۃ اور ٹیکس کے بعد خالص منافع کے لحاظ سے ٹھہراؤ آگیا ہے۔2022ء کی تیسری سہ ماہی تک زکوٰۃ اور ٹیکس کے بعد بیمہ کی صنعت میں ہونے والے نقصانات اورخالص منافع بالترتیب 81.79 فی صد اور15 کروڑڈالر (56 کروڑ61لاکھ سعودی ریال) رہا جبکہ 2021ء کی تیسری سہ ماہی تک بالترتیب 81.36 فی صد اور 14 کروڑ20 لاکھ ڈالر(53 کروڑ 38 لاکھ سعودی ریال) تھا۔

انشورنس انڈسٹری کے کل اثاثے اورکل ایکویٹی 21 ارب ڈالر (79.02 ارب سعودی ریال) اور 5 ارب ڈالر (19.08 ارب سعودی ریال) رہی جو 31 دسمبر 2021 کے مقابلے میں بالترتیب 20 فی صداور 4.8 فی صد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

یہ 31 دسمبر2021 تک 3.91 فی صد کے مقابلے میں 3.96 فی صد ایکویٹی پر سالانہ واپسی کی نمائندگی کرتا ہے ، اور 31 دسمبر ، 2021 کو 1.08 فی صد کے مقابلے میں 2022 کی تیسری سہ ماہی تک 0.96 فی صد کے اثاثوں پر سالانہ واپسی کی نمائندگی کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، آئی ایف آر ایس 17 کسی کمپنی کی طرف سے جاری کردہ انشورنس معاہدوں کے لیے پہلا جامع بین الاقوامی اکاؤنٹنگ معیارہے، جس میں ری انشورنس کے معاہدے بھی شامل ہیں جو انشورنس کمپنیوں کی مالی رپورٹنگ پر تبدیلی کے اثرات کا باعث بنتے ہیں۔

آئی ایف آر ایس 17 کا اطلاق یکم جنوری 2023 سے مملکت میں ہوگا کیونکہ انشورنس کمپنیاں سعودی سینٹرل بینک (ساما) میں جمع کرائی جانے والی آڈٹ رپورٹ کی تیاری کے مرحلے میں ہیں۔

اگرچہ یہ ڈرائی رن جاری ہیں ، انشورنس فرموں کے لیے کچھ عام چیلنجز آئی ایف آر ایس 17 ماڈلز میں ان پٹ کے لیے موجودہ نظام سے اعدادوشمارکا اخراج ہے۔اس میں اخراجات کے دعووں کے لیے واجبات کے تحت قابل ادائیگی اضافی تقسیم کی بعد میں درجہ بندی ، پریمیم الاٹمنٹ اپروچ (پی اے اے) ماڈل کے تحت پریمیم وصولی پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس شامل ہے۔ آئی ایف آر ایس 17 کے تقاضوں کے تحت ذمہ دار اور غیر ذمہ دار اخراجات کی تخصیص اور پی اے اے کی اہلیت کا وقتاً فوقتاً جائزہ بھی اس میں شامل ہے۔

سعودی عرب میں کے پی ایم جی کے سینئر ڈائریکٹر اور انشورنس لیڈ سلمان چودھری کا کہنا ہے کہ انشورنس کے شعبے میں گزشتہ ڈھائی سال میں ڈیجیٹل تبدیلی میں اضافہ اس طرح سے سب سے زیادہ نظر آتا ہے جس طرح کمپنیاں اب ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے اپنے صارفین کے ساتھ بات چیت کرتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ڈیجیٹل کاری اب معمول بن چکی ہے۔اس کوفوائد کے ساتھ اب صنعت کی طرف سے وسیع پیمانے پرتسلیم کیا جاتا ہے۔کمپنیوں کوصارفین کے حساس ڈیٹا کی حفاظت کے لیے اپنی سائبر سکیورٹی اور ڈیٹا پرائیویسی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے پر اپنی توجہ بڑھانا ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں