دبئی کی عدالت کا فراڈ میں ملوّث برطانوی شہری کی حوالگی کاحکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دبئی کی ایک عدالت نے ڈنمارک میں مبیّنہ طور پر 1.7 ارب یورو کے ٹیکس فراڈ کے الزام میں مطلوب ایک برطانوی شہری کی حوالگی کی منظوری دے دی ہے۔البتہ اس کا حتمی فیصلہ اعلیٰ عدالت کرے گی۔

ہیج فنڈکے تاجر سنجے شاہ کوجون میں دبئی میں گرفتارکیا گیا تھا ، لیکن امارات کی کورٹ آف اپیل نے ستمبر میں ڈنمارک کی حوالگی کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔ شاہ کی وکالت کرنے والی فرم ہورائزنزاینڈ کمپنی کے مطابق عدالت نے جمعرات کو اس فیصلے کوپلٹ دیا ہے اوراب حوالگی کا حکم دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آج کا فیصلہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ سنجے شاہ کو اب متحدہ عرب امارات سے حوالے کیا جاسکتا ہے لیکن شاہ کو فوری طور پرملک سے بے دخل نہیں کیا جائے گا۔

ہورائزنزاینڈ کمپنی کے منیجنگ پارٹنرعلی الزرونی نے کہا کہ ’’اب ہمارے پاس 30 دن کا وقت ہے جس میں ہم آج کے فیصلے کے خلاف متحدہ عرب امارات کی اعلیٰ ترین کیسیشن عدالت میں اپیل کریں گے اورہم توقع کرتے ہیں کہ اگلے دو ماہ میں یہ عدالت حتمی فیصلہ سنا دےگی‘‘۔

سنجے شاہ پرالزام ہے کہ انھوں نے 2012 سے تین سال تک ایک اسکیم چلائی جس میں غیر ملکی فرموں نے ڈنمارک کی کمپنیوں میں حصص رکھنے کا ڈھونگ رچایا اور ٹیکس ریفنڈ کا دعویٰ کیا۔

متحدہ عرب امارات کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شاہ نے کہاکہ وہ قصوروار نہیں اوران کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ڈنمارک کے قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔انھیں دونوں ملکوں کے درمیان مارچ میں دست خط شدہ دوطرفہ حوالگی معاہدے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

ڈنمارک کے وزیرخارجہ لارس لوکے راسموسن نے خبررساں ایجنسی رتزاؤ کو بتایا کہ اس مقام تک پہنچنے کے لیے ڈنمارک کی سفارت کاری کی جانب سے مسلسل کوششیں اوراماراتی حکام کے ساتھ تعمیری تعاون کارفرما رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ آج ہم سنجے شاہ کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ایک بڑا قدم آگے آئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں