گروپ سات کا طالبان سے خواتین امدادی کارکنوں پر عاید پابندی فوری ختم کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گروپ سات میں شامل ممالک کے وزرائے خارجہ نے طالبان پر زوردیا ہے کہ وہ افغانستان میں امدادی شعبے میں کام کرنے والی خواتین پرعاید پابندی کو فوری طورپرختم کریں۔

وزراء نے جمعرات کے روزایک بیان میں کہا کہ انھیں اس بات پر گہری تشویش لاحق ہے کہ قومی اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کی خواتین ملازمات کو کام کی جگہوں سے روکنے کے طالبان کے غیر ذمہ دارانہ اورخطرناک حکم نے ان لاکھوں افغانوں کوخطرے میں ڈال دیا ہے جو اپنی بقا کے لیے انسانی امداد پر انحصارکرتے ہیں۔

برطانوی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طورپراس فیصلے کو واپس لیں‘‘۔

گذشتہ سال طالبان کی جانب سے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد یہ پابندی افغانستان میں خواتین کے حقوق کے خلاف تازہ دھچکا ہے۔

ایک ہفتہ سے بھی کم عرصہ قبل سخت گیرطالبان نے خواتین کوجامعات میں داخلے سے روک دیا تھا جس کے بعدافغانستان کے بعض شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیااورعالمی سطح پربھی اس اقدام کے خلاف سخت ردعمل کا اظہارکیا گیا ہے۔

گروپ سات نے کہا کہ ’’خواتین انسانی اوربنیادی ضروریات کی سرگرمیوں میں بالکل مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ جب تک وہ افغانستان میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتیں، این جی اوز ملک کے سب سے کم زورلوگوں تک خوراک، ادویہ، موسم سرما سے بچاؤ کے سامان اور دیگرخدمات مہیا کرنے کے قابل نہیں ہوں گی‘‘۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’طالبان افغان عوام بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کے حقوق، آزادیوں اور فلاح و بہبود کے لیے اپنی حقارت کا مظاہرہ جاری رکھے ہوئے ہیں‘‘۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چھے امدادی اداروں نے خواتین کے کام کرنے پر پابندی کے ردعمل میں افغانستان میں اپنی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔ان میں کرسچن ایڈ،ایکشن ایڈ،سیودا چلڈرن، نارویجن ریفیوجی کونسل اور کیئر شامل ہیں۔

بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی نے، جو صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں ہنگامی خدمات مہیا کرتی ہے اور افغانستان بھر میں 3،000 خواتین کو ملازمت فراہم کرتی ہے،بھی کہا ہے کہ وہ خدمات معطل کررہی ہے۔

کرسچن ایڈ کے عالمی پروگراموں کے سربراہ رے حسن نے پیر کے روز کہا کہ "افغانستان میں لاکھوں افراد فاقہ کشی کے دہانے پر ہیں‘‘۔انھوں نے مزید کہا کہ "یہ اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں کہ خاندان مایوس کے عالم میں کھانا خریدنے کے لیے اپنے بچوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ خواتین امدادی کارکنوں پر پابندی "صرف ضرورت مند افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کی مدد کرنے کی ہماری صلاحیت کو کم کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں