کیا تُرکیہ کے سروس سے باہر ہونے والے چار ہوائی جہاز ایران نے خرید لیے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکیہ کے سروس سے باہر ہونے والے چار ہوائی جہازوں کے جنوبی افریقا کے راستے ایران بھیجے جانے سے متعلق خبریں ایران اور ترکیہ دونوں میں گردش کررہی ہیں جس سے کئی قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔

ایرانی سول ایوی ایشن کے ایک اہلکار نے تنظیم نے خروف پر نقطے لگانے کے مترادف بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہوائی جہازوں کو درآمد" کیا گیا، حالانکہ ان کی زندگی کا دورانیہ کئی سال پہلے ختم ہو چکا تھا۔ سروس سے باہرہونے والے ہوائی جہازوں کو ایران کی سپریم ایوی ایشن کونسل کا قانون درآمد کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کے باوجود طیاروں کو ایران لائے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ایئربس طیاروں کے لیک ہونے اور ان کی ایران میں لینڈنگ کا اعلان سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر حسن خوشکو نے کیا اور انہوں نے ایرانی اسٹوڈنٹس نیوز ایجنسی ’ایسنا‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے ان مسافر طیاروں کی "درآمد" کی خبروں کے حوالے سے وضاحت کی۔

اس سے قبل ایوی ایشن ویب سائٹس نے اطلاع دی تھی کہ 4 ایئربس A340-300 سول طیارے پانچ دن قبل جنوبی افریقہ سے وسطی ایشیا میں جمہوریہ ازبکستان کے لیے روانہ ہوئے تھے لیکن ایران میں اترے۔

یہ طیارے ترکش ایئرلائنز کی ملکیت تھے اور سروس سے باہر ہوگئے تھے۔ انہیں 2018 اور 2019 میں ہانگ کانگ کی "یوروگلوبل" کمپنی کو فروخت کیا گیا تھا۔ کمپنی نے انہیں دوبارہ استعمال کرنے کے لیے جنوبی افریقا کے شہر جوہانسبرگ میں رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چار طیارے 1996 سے 2000 کے درمیان بنائے گئے تھے اور ان کی عمر 20 سال سے زیادہ ہے۔

شائع شدہ معلومات کے مطابق چاروں طیارے 23 دسمبر کو بیک وقت جوہانسبرگ سے ازبکستان کی طرف روانہ ہوئے لیکن ایران کے آسمانوں میں ریڈار اسکرین سے اچانک غائب ہو گئے۔ توقع ہے کہ وہ ایرانی دارالحکومت تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ پر اترے۔ .

اطلاعات کے مطابق چاروں طیاروں کی رجسٹری برکینا فاسو کے لیے پرواز سے کچھ دیر قبل تبدیل کر دی گئی تھی۔

ان چار طیاروں کی تبدیلی نے سوشل نیٹ ورکس میں تجارتی طیاروں کو ٹریک کرنے میں دلچسپی رکھنے والوں کی قیاس آرائیاں شروع کر دیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی فضائی بیڑے کے فائدے کے لیے استعمال شدہ طیاروں کی درآمد صرف ان چار صورتوں تک محدود نہیں تھی بلکہ گذشتہ برسوں کے دوران ایرانی فضائی کمپنیوں نے استعمال شدہ طیارے خریدے ہیں اور اس سے بعض ماہرین کی جانب سے عمر کے حوالے سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔

فروری 2020ء میں ایرانی ایئرلائنز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری نے ایرانی سپریم کونسل آف ایوی ایشن سے کہا کہ وہ استعمال شدہ طیاروں پر عمر کی پابندیاں ختم کرے کیونکہ ان پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی بیڑے پر عائد پابندیوں کے پیش نظر اس کی تجدید کرنا ناممکن ہو جائے گا۔

ایرانی سپریم کونسل آف ایوی ایشن کے فیصلے کے مطابق درآمد شدہ طیاروں کی عمر 20 سال سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں