ایرانی ساختہ ڈرون سے کئے گئے روسی حملہ کو پسپا کر دیا: یوکرین

ڈونیٹسک کے شمال میں باخموت اور سولیدار محاذوں پر مشکل صورتحال ہے: زیلنسکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یوکرین کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے بھاری روسی بمباری کے بعد کیئف سمیت ملک کے مختلف علاقوں پر ایرانی ساختہ ڈرون کے ساتھ کئے گئے روسی حملے کو پسپا کر دیا ہے۔

29 اور 30 دسمبر کی درمیانی شب سوشل میڈیا پر پوسٹ بیان میں یوکرینی فضائیہ نے بتایا دشمن نے یوکرین پر ایرانی ساختہ خودکش ڈرون سے حملہ کیا۔ ملک کے جنوب مشرق سے شمال کی طرف کل 16 ڈرونز لانچ کیے گئے۔ سب کو ہماری فضائیہ نے تباہ کر دیا۔

یوکرین کے دارالحکومت کیئف کے حکام نے مقامی وقت کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب 2 بج کر 12 منٹ پر ایک انتباہ جاری کیا جو دو گھنٹے سے زیادہ جاری رہا۔ بعد میں میئر وٹالی کلِٹسکو نے اعلان کیا کہ کیف پر سات ڈرونز سے حملہ کیا گیا، دو دارالحکومت کے قریب پہنچتے ہی تباہ ہو گئے اور باقی پانچ شہر کے اوپر آ کر تباہی کا نشانہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن گرنے والے ملبے سے کیف کے جنوب مغربی ضلع میں دو عمارتوں کی کھڑکیوں کو نقصان پہنچا۔

جمعرات کو خونی حملہ

مقامی حکام نے جمعرات کو ملک بھر میں دھماکوں کی اطلاع دی تھی۔ حکام کے مطابق کیئف، خرکیو، پولینڈ کی سرحد کے قریبی علاقے لیویو میں دھماکے ہوئے۔ یوکرین کے وزیر داخلہ ڈینس موناسٹیرسکی کے مطابق روسی بمباری کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور ایک بچے سمیت چھ زخمی ہوئے۔

مسلح افواج کے کمانڈر انچیف جنرل ویلری زلوزنی نے کہا کہ روس نے 69 کروز میزائل داغے اور ان میں سے 54 کو مار گرایا گیا۔ یوکرین میں فیلڈ ذرائع نے بتایا کہ ڈرونز نے جمعہ کو صبح سویرے کیف کے مقامات پر بمباری کی اور کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ حملے کو پسپا کرنے کے لیے طیارہ شکن میزائل داغے گئے۔ جمعہ کی صبح کھیرسن کے ایک علاقے میں فضائی دفاعی نظام کو بھی چالو کر دیا گیا۔

کم درجہ حرارت اور بجلی کی بندش

اسی تناظر میں یوکرین کے صدر زیلینسکی نے اعلان کیا کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں ملک کے تمام حصوں کو نشانہ بنانے والے میزائل حملوں کے بعد درجہ حرارت میں نمایاں کمی کے دوران بجلی کی بندش کا بھی سامنا ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ ڈونیٹسک کے شمال میں باخموت اور سولیدر کے محاذوں پر مشکل صورتحال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روسی افواج نئے سال سے پہلے ڈونیٹسک کے علاقے پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔

نیا برطانوی فوجی ساز وسامان

برطانیہ نے یوکرین کو نیا فوجی سازوسامان بھیج دیا۔ اس سامان میں بم اور بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے والے آلات شامل ہیں۔ ان آلات کا مقصد زمینوں اور عمارتوں کو بغیر پھٹنے والے ہتھیاروں اور روسی بمباری سے چھوڑے گئے میزائلوں سے صاف کرنے میں مدد ملے۔ برطانوی وزیر دفاع بین والیس نے اعلان کیا تھا کہ ان کے ملک نے یوکرین کی عسکری مدد کے لیے اگلے سال کے بجٹ سے دو ارب سات سو ستر ملین ڈالر مختص کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں