یمنی شہری برسوں سے تنخواہوں کے بغیر کیسے گزارہ کرتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایک ایسے ملک میں جس میں متعدد تاریخی مسائل برسوں سے حل طلب ہیں اوراس کے عوام کے پاس اپنی بقا کے لیے محدود آپشنز ہیں، جنگ غربت اور جہالت کے بعد تیسری لعنت بن کر سامنے آئی ہے، جس نے اس سانحے کی ہولناکی کو مزید کئی گنا بڑھا دیا۔ اس میں بھوک اور افلاس سب سے بڑھ کر ہے۔

یہ صورت حال ملک کی تاریخ میں ایک المناک اور تکلیف دہ تبدیلی تھی، جو اپنی آبی تہذیب کے لیے مشہور تھا۔ منفرد انسانی شواہد کے ایک طویل دور تک پھیلا ملک آج دنیا کے بحری جہازوں کی مدد کے لیے پکارنے والے ایک بڑے گھاٹ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ایک وقت تھا یمن کی زرخیز زمین فاضل گندم اور اناج کاشت کرتی تھی مگر آج اس کے عوام خود ایک ایک دانے کو ترس گئے ہیں۔ یہ سب جنگ کی ہولناکی کے تباہ کن اثرات ہیں۔

گذشتہ کئی سال سے یمن کے سرکاری ملازمین کی بڑی تعداد تنخواہوں سے محروم ہے۔ تقریبا بارہ لاکھ یمنی سرکاری ملازمین کو کئی سال سے تنخواہیں نہیں ملیں جس کے نتیجے میں غربت اور مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

تنخواہوں سے محروم ملازمین میں زیادہ تر ان گورنریوں سے تعلق رکھتے ہیں جن پر ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کا کنٹرول ہے۔ ان مقامات میں دارالحکومت صنعا اور شمالی یمن کی گورنریاں شامل ہیں۔ دوسری طرف یمن کی آئینی حکومت کے زیرانتظام علاقوں میں بھی دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہہ رہیں۔ وہاں بھی کرنسی کی گراوٹ کی وجہ سے عوام معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر امداد کے لیے اپیلیں کی جا رہی ہیں اور ہنگامی انسانی امداد کو دوگنا کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ آئینی حکومت نے عرب اتحادی ممالک کے تعاون سے آزاد کرائے گئے علاقوں میں ملازمین کی تنخواہیں ادا کیں، لیکن یہ کوششیں حوثیوں کی جانب سے اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی تجاویز پر عمل درآمد سے انکار کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوئیں، جن میں ایک معاہدہ بھی شامل ہے۔ معاہدے میں یہ بات شامل تھی کہ دونوں فریق الحدیدہ بندرگاہ کی آمدنی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کریں گے مگرحوثی ملیشیا کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس پرعمل درآمد نہیں کیا جا سکا۔

گذشتہ اگست میں یمنی حکومت نے حوثی ملیشیا پر الزام لگایا کہ وہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام گذشتہ دو اپریل کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے الحدیدہ کی بندرگاہ کے ذریعے آنے والے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو لوٹ رہی ہے۔ ملیشیا کے زیر کنٹرول علاقوں میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے کافی ہے۔ مگر حوثی ملیشیا نے کئی سال سے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں سے محروم کررکھا ہے۔

بیرون ملک سے بھیجی جانے والی غیر ملکی ترسیلات یمنی خاندانوں کا پیٹ بھرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

ہمسایہ ملک سعودی عرب یمنی تارکین وطن کی تعداد کے لحاظ سے عرب اور بین الاقوامی ممالک میں سرفہرست ہے، کیونکہ اس میں تقریباً 1.3 ملین تارکین وطن مقیم ہیں، جن میں 315 تاجر اور 144 سائنسی طور پر اہل افراد شامل ہیں۔ باقی عام شہری ہپں۔ حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 70,000 یمنی باشندے دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پرمجبور ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں 70 یمنی تاجر ہیں اور ان میں سے 74 کے پاس سائنسی قابلیت ہے۔ قطر میں 11 ہزاریمنی رہائش پذیر ہیں جن میں چار تاجر اور سات سائنسی اہلیت رکھنے والے افراد، بحرین میں 10 ہزار اور کویت میں 7656 سے زائد تارکین وطن ہیں جن میں آٹھ تاجر اور 15 سائنسی اہلیت کے حامل ہیں۔

اقتصادی محقق عبد الواحد العوبلی کے مطابق تارکین وطن کی اس فیصد نے خاندانوں کے ایک اہم تناسب کے لیے بھوک کی شدت کم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ عالمی بینک کے جاری کردہ تخمینے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بیرون ملک مقیم تارکین وطن سالانہ تقریباً 4 ارب ڈالر منتقل کرتے ہیں۔ اور یہ رقوم یمنیوں کے گھر میں آمدنی کا پہلا ذریعہ اور سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

متبادل معاشی حل تلاش کرنے اور منحرف افراد کے لیے ملازمت کے مواقع فراہم کرنے میں نجی شعبے کی قسمت اور کردار کے بارے میں، العوبلی کا خیال ہے کہ یہ شعبہ مسلسل ایذا رسانی اور محصولات کی وجہ سے اپنی کم سے کم سطح پر کام کر رہا ہے۔ سرمایہ کاری اور کاروبار کے مواقع نہیں رہے۔ حوثی ملیشیا کے پیروکاروں اور زمین پر کنٹرول کرنے والے مسلح گروپوں کی اجارہ داری ہے۔"

حوثی ملیشیا نے ایک متبادل افرادی قوت تشکیل دی ہے، انہیں خصوصی مراعات دی ہیں، جبکہ باقی سابق ملازمین کو بغیر تنخواہ کے کام کرنے پر مجبور کیاجا رہا ہے۔ سوائے نصف تنخواہ کے جو ہر چھ ماہ میں اوسطاً 40,000 ریال (70 ڈالر) کے حساب سے ادا کی جاتی ہے۔

اس تقسیم نے ملیشیا کے زیر کنٹرول علاقوں میں سرکاری ملازمین کے ایک بڑے شعبے کو پرائیویٹ سیکٹر میں کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں