سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کیف کا دورہ،یوکرین کاساتھ جاری رکھنے کا عہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

برطانیہ کے سابق وزیراعظم بورس جانسن نے اتوار کے روز یوکرین کے دارالحکومت کیف کا اچانک دورہ کیا اورصدر ولادیمیرزیلنسکی سے ملاقات کی ہے۔انھوں نے بات چیت میں اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک جنگ جاری ہے،برطانیہ یوکرین کے ساتھ کھڑارہے گا۔

بورس جانسن نے گذشتہ سال ستمبرمیں متعدد اسکینڈلوں کے بعد عہدہ چھوڑدیا تھا۔گذشتہ فروری میں جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا تو وہ وزیراعظم تھے اور انھوں نے برطانیہ کو مغرب میں کیف کے سب سے بڑے اتحادی کے طورپرپیش کرنے کی کوشش کی تھی۔

انھوں نے یوکرین کے دارالحکومت کے مضافات میں واقع بوروڈینکا اور بوچا کا بھی دورہ کیا۔یہ دونوں علاقے مغرب میں ہونے والے مظالم کی آماج گاہ بن گئے ہیں۔ روسی افواج نے حملے کے پہلے مرحلے میں کیف کی طرف پیش قدمی کی تھی اور اس کے مضافات کو میزائل حملوں میں بھی نشانہ بنایا ہے۔

بورس جانسن نے بوچا کے میئر سے کہا کہ ’’میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ برطانیہ یوکرین کے ساتھ اس کی جیت تک کھڑا رہے گا۔آپ جیتنے جا رہے ہیں اورآپ تمام روسیوں کو اپنے ملک سے باہر نکال دیں گے، لیکن ہم طویل مدت کے لیے وہاں رہیں گےاور ہم آپ کی تعمیرنو میں بھی مددکرنا چاہیں گے‘‘۔

ایک مترجم کے ذریعے بات کرتے ہوئے انھوں نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا ہے کہ یوکرین میں ان کی سرگرمی کو برطانوی وزیراعظم رشی سوناک کو کمزور کرنے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

سابق برطانوی وزیراعظم اپنے اقتدار کے دوران میں صدرزیلنسکی سے اکثرفون پربات کرتے رہتے تھے۔برطانیہ میں اسکینڈلز میں ملوث ہونے کے باوجود یوکرین میں بڑے پیمانے پر مقبولیت حاصل کی تھی اور وہ ’’بوریس جانسنیوک‘‘کے طور پر مشہور ہوئے تھے۔کیف میں ایک کیفے میں ان کے نام پر کیک اوران کی تصویر کا استعمال کرتے ہوئے اسٹریٹ آرٹ تیار کیا گیا۔

بوچا میں جانسن نے رہائشیوں کے ساتھ سیلفیاں لیں اور جنگ کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے پھول چڑھائے۔ انھوں نے ایک نمائش دیکھنے کے لیے چرچ کا دورہ کیا اور ایک پادری کو پیش کرنے کے لیے ونسٹن چرچل کے بارے میں اپنی کتاب کے یوکرینی ایڈیشن پر دست خط کیے۔

بوروڈینکا میں، وہ تباہ شدہ رہائشی بلاکوں سے گزرتے ہوئے سڑکوں پر چلتے رہے۔ کیف کے علاقائی گورنر اولیکسی کلیبا نے،جو ان کے ہمراہ تھے،کہا کہ گذشتہ سال شہر پر ایک ماہ تک جاری رہنے والے روسی قبضے کے دوران میں 162 رہائشی ہلاک ہوئے تھے۔اب شہرکو واگزار کرانے کے بعد سے قریباً 60 فی صد رہائشی واپس آ چکے ہیں۔

گذشتہ ہفتے برطانیہ نے کہاتھا کہ وہ یوکرین کو 14 چیلنجر2 ٹینک اور دیگر بھاری ہتھیارمہیا کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں