ایران مظاہرے

امریکااوربرطانیہ نے ایران کے اعلیٰ عہدے داروں اور اداروں پرنئی پابندیاں عایدکردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا اوربرطانیہ نے عوام کےانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں مزید ایرانی شخصیات، اعلیٰ عسکری حکام اوراداروں پر پابندیاں عایدکردی ہیں جبکہ یورپی یونین نے بھی نئی پابندیوں کے نفاذ کا عندیہ دیا ہے۔

امریکا نے پیر کے روزایرانی مظاہرین کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کے ردعمل میں پاسداران انقلاب کوآپریٹو فاؤنڈیشن اور دیگر سینیرعہدے داروں کے خلاف نئی پابندیاں عاید کی ہیں۔

محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ پاسداران انقلاب کوآپریٹو فاؤنڈیشن اوراس کے بورڈ کے پانچ ارکان کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس اور سکیورٹی کے نائب وزیر کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ان کے علاوہ سپاہ پاسداران انقلاب کے چار سینیرکمانڈروں پربھی نئی پابندیوں کا نفاذ کیا گیا ہے۔

محکمہ خزانہ نے کہا کہ ’’برطانیہ اور یورپی یونین دونوں کے تعاون سے آج کی کارروائی پاسداران انقلاب کے ایک اہم اقتصادی ستون کو نشانہ بناتی ہے، جو ایرانی حکومت کے ظالمانہ جبر کی زیادہ ترمالی اعانت کرتاہے۔ قومی اور صوبائی سطح پر تہران کے کریک ڈاؤن میں تعاون کرنے والے سینیرسکیورٹی حکام بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں‘‘۔

محکمہ خزانہ کے انڈرسیکریٹری برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس برائن نیلسن نے کہا ہے کہ’’امریکا انسانی حقوق اوردیگر بنیادی آزادیوں کے مطالبے میں ایرانی عوام کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کرایرانی حکومت کا احتساب کرتے رہیں گے جب تک کہ وہ اپنے عوام پرتشدد، جھوٹے مقدمات، مظاہرین کو پھانسی دینے اورانھیں دبانے کے دیگر طریقوں پر انحصار کرتی رہے گی‘‘۔

یہ امریکا کی جانب سے ایرانی شخصیات اور اداروں کے خلاف عاید کردہ پابندیوں کا نواں دور ہے، جس میں ایرانی مظاہرین پر پُرتشدد جبر کے ذمہ داروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔محکمہ خزانہ نے کہا کہ پاسداران انقلاب کوآپریٹو فاؤنڈیشن وہ گروپ ہے جو ایرانی معیشت کے شعبوں میں اس فورس کی سرمایہ کاری اور موجودگی کا انتظام کرتی ہے۔محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ آئی آر جی سی کے اہلکاروں اور ان کے کاروباری مفادات کے لیے ایک 'سلش فنڈ' کے طور پرکام کرتی ہے۔

ایران میں گذشتہ سال ستمبر میں نامناسب حجاب کی وجہ سے نام نہاد اخلاقی پولیس کی تحویل میں مہسا امینی کے قتل کے ردعمل میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ایرانی سکیورٹی فورسزنے سڑکوں پر نکلنے والے ان مظاہرین کوتشدد کا نشانہ بنایا ہے،انھیں مارا پیٹا،نارواسلوک کا نشانہ بنایا ہے اور سیکڑوں کو جان ہی سے ماردیا ہے۔

تہران تشدد کا یہ سلسلہ ختم کرنے کے بجائے ثبوت فراہم کیے بغیر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ بعض ممالک اورغیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیاں ملک بھر میں نظام مخالف مظاہروں کوہوا دے رہے ہیں۔

برطانیہ کی ایران پرنئی پابندیاں

ایران میں حال ہی میں برطانوی اورایرانی دُہری شہریت کے حامل علی رضا اکبری کوجاسوسی کے جرم میں تختہ دار پرلٹکایا گیا ہے۔ان کی پھانسی کے ردعمل میں برطانیہ نے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عاید کرنے کی دھمکی دی تھی۔

برطانیہ نے نئی پابندیوں کے تحت ایران کے ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل احمد فاضلیان کے اثاثے منجمد کرلیے ہیں۔ان کے بارے میں برطانوی دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ وہ غیرمنصفانہ عدالتی نظام کے ذمہ دار ہیں اور وہ دیگرحکام کے ساتھ مل کرسزائے موت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

جن دیگر افراد اور اداروں کونئی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے،ان میں ایران کی برّی فوج کے کمانڈر ان چیف کیومرس حیدری ،سپاہ پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر حسین نجات، بسیج مزاحتی فورس اور اس کے کے نائب کمانڈر سالار ابنوش شامل ہیں۔

برطانیہ نے بسیج ملیشیا سے وابستہ بسیج کوآپریٹوفاؤنڈیشن اور ایران کی قانون نافذ کرنے والی فورسزکے ڈپٹی کمانڈر قاسم رضائی پر بھی پابندیاں عاید کی ہیں۔

برطانوی وزیرخارجہ جیمز کلیورلی نے کہا کہ آج جن لوگوں پر پابندیاں عاید کی گئی ہیں،ان میں سیاسی مقاصد کے لیے سزائے موت کا استعمال کرنے والی عدالتی شخصیات سے لے کر سڑکوں پر مظاہرین کو پیٹنے والے غنڈوں تک شامل ہیں اور وہ ایرانی عوام پر حکومت کے وحشیانہ جبرواستبداد میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ’’برطانیہ اورہمارے شراکت داروں نے ان پابندیوں کے ذریعے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کے لیے چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ہوگی‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں