دسیوں ہزار افغان تاحال برطانیہ میں آبادکاری کے منتظر

71 ہزار درخواستوں کا بیک لاگ افغانوں کی زندگیوں کو "غیر محفوظ" بنا دے گا: خیراتی اداروں کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

طالبان کے افغان حکومت پر قبضے کو 17 ماہ گزر جانے کے باوجود تاحال دسیوں ہزار افغان اب بھی اپنی قسمت جاننے کے منتظر ہیں کہ کیا انہیں برطانیہ منتقل کیا جائے گا یا نہیں۔ برطانوی وزارت دفاع کی جانب سے جاری نئے اعداد و شمار میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان نقل مکانی اور امدادی پالیسی کے تحت اب بھی 71 ہزار 149 درخواستیں کارروائی کی منتظر ہیں۔

یہ پروگرام ان افغان شہریوں کی خدمت کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا جنہوں نے افغانستان میں برطانیہ کی حکومت کے لیےکام کیا ہے۔ افغانستان میں انتقامی حملوں کی حالیہ لہر نے ان میں سے بہت سے لوگوں کو اپنی زندگیوں کے لیے خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔

خیراتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ جن لوگوں نے یوکے کی مالی اعانت سے چلنے والی سکیموں پر کام کیا ہے ان پر حکومت کی دوبارہ آباد کاری سکیموں پر غور نہیں کیا جا رہا ہے۔ خیراتی اداروں نے واضح کیا کہ افغانوں کے لیے انتظار کی مدت کے دوران خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ آباد کاری کی پالیسی اور افغان امداد کی درخواستوں پر فیصلے تک پہنچنے میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔

معلومات کی آزادی کی درخواست پر اپنے ردعمل کے دوران برطانوی محکمہ دفاع نے انکشاف کیا کہ گزشتہ نومبر میں اس کے ملازمین صرف جنوری 2022 میں جمع کرائی گئی درخواستوں پر کارروائی کر رہے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ درخواست گزاروں کو کم از کم آٹھ ماہ کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ معلومات کی آزادی کی ایک اور درخواست کے اعدادوشمار سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اپریل 2021 سے اب تک اس پروگرام کے لیے ایک لاکھ 27 ہزار سے زیادہ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق71 ہزار 149 درخواستوں پر کارروائی کی جائے گی۔ تاہم وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ نااہل ہیں یا وہ ڈپلیکیٹ نام ہیں۔

چیریٹی ورکرز اور سابق سرکاری ملازمین نے خبردار کیا ہے کہ درخواستیں قبول کرنے کا معیار بہت زیادہ محدود ہے جس سے افغانستان میں برطانیہ کے امدادی کارکنوں کے چھوڑ جانے کا خطرہ ہے۔ 21 دسمبر 2022 تک افغان آباد کاری اور امدادی پالیسی کے تحت تقریباً 10 ہزار 900 نااہل درخواست دہندگان سامنے آئے۔ اس تعداد میں ان افراد کے خاندان کے افراد شامل نہیں کئے گئے۔ اس دوران 2 ہزار 780 افراد کو اہل درخواست دہندگان شمار کیا گیا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس پروگرام کے تحت مزید 4,300 افراد (بنیادی درخواست دہندگان اور ان کے خاندان کے افراد) برطانیہ میں سیاسی پناہ کے اہل ہیں۔ وزارت دفاع نے بتایا کہ افغان آباد کاری اور امدادی پالیسی کے تحت 12000 سے زائد افراد کو برطانیہ لایا گیا ہے۔ وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے کہا کہ ہماری ترجیح صرف درخواستوں کے موجودہ حجم کو حل کرنا نہیں ہے بلکہ افغانوں کو تلاش کرنا ہے جو افغان آباد کاری اور امدادی پالیسی کے معیار پر پورا اترتے ہیں ۔

درخواستوں پر کارروائی میں تاخیر سے متاثر ہونے والے افراد میں سے ایک کابل میں محکمہ برائے بین الاقوامی ترقی کی سابق ملازمہ فاطمہ (اصل نام نہیں) بھی ہیں۔فاطمہ اس وقت دبئی میں رہتی ہیں۔ انہوں نے جون 2021 میں افغان آباد کاری اور امدادی پالیسی کے تحت منتقلی کے لیے درخواست دی تھی اور اسے مسترد کر دیا گیا تھا کیونکہ وزارت دفاع نے غلط طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ وہ ایک ٹھیکیدار تھیں ملازم نہیں اس لیے نااہل ہیں۔ مزید تاخیر کے بعد فاطمہ کو فروری 2022 میں بتایا گیا کہ اس کی درخواست کامیابی کے ساتھ منظور کر لی گئی ہے تاہم ان کا ویزا عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے جو برطانوی سفارت خانہ سے منظوری کا منتظر ہے۔

جوائنٹ چیریٹی کونسل فار مائیگرنٹ ویلفیئر میں ایڈووکیسی کی ڈائریکٹر زہرہ حسن نے بیک لاگ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغان آبادکاری اور امدادی پالیسی کے اشتعال انگیز اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری حکومت نے کمزور افغانوں کے لیے دروازے بند کر دیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ پہلے ہی اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال چکے ہیں اب انہیں افغانستان میں ظلم و ستم کا خطرہ مول لینے یا یہاں اپنے خطرناک سفر کرنے میں سے کسی انتخاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ریفیوجی کونسل میں مہمات کے سربراہ مارک ڈیوس نے کہا ہے کہ افغان آباد کاری اور امدادی پالیسی کے تحت درخواستیں جمع کرانے والے افغانوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہو گئی ہے، جس سے وہ افغانستان میں بڑے خطرے سے دوچار ہیں اور خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال ناقابل قبول ہے۔

کنزرویٹو ایم پی جان بیرن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ برٹش کونسل کے سابق کارکنان اور افغانستان میں ان کے اہل خانہ کو برطانیہ میں حفاظت سے منتقل کیا جائے۔

برٹش کونسل کے کچھ کارکنوں کو دوبارہ آبادکاری کی پالیسی اور افغان امداد کے تحت قبول کیا گیا تھا لیکن جن اساتذہ کے ساتھ انہوں نے معاہدہ کیا تھا انہیں بتایا گیا کہ وہ اہل نہیں تھے، حالانکہ وہ اسی سطح پر ظلم و ستم کے خطرے میں تھے۔ اس کے بجائے ان سے افغان نیشنل ری سیٹلمنٹ پروگرام میں درخواست دینے کو کہا گیا۔ افغانستان میں برٹش کونسل کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر جو سیٹن نے کہا کہ افغان ری سیٹلمنٹ پالیسی اینڈ اسسٹنس پروگرام کے انچارجوں کی جانب سے اساتذہ کو مسترد کرنے کے لیے کوئی وضاحت نہیں ہے۔ تمام اساتذہ اب بھی زندہ ہیں۔

دوسری طرف افغان نیشنل ری سیٹلمنٹ پروگرام کو بھی مسائل کا سامنا ہے۔دسمبر میں دی انڈیپنڈنٹ نے انکشاف کیا تھا کہ اس راستے کے تحت اب تک صرف چار افراد ہی برطانیہ میں آباد ہوئے ہیں۔وزیر دفاع جیمز ہیپی نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ نومبر 2022 تک افغان آباد کاری اور امدادی پالیسی کے تحت 327 پرنسپل درخواست دہندگان تھے جنہوں نے برطانیہ جانے کی اہلیت ثابت کی تھی اور وہ اب بھی افغانستان میں تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں