روس اور یوکرین

یوکرین جنگ کے پس منظرمیں "قیامت کی گھڑی" آج اپ ڈیٹ کی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس کے ممبران آج منگل کو "قیامت کی گھڑی" کو اپ ڈیٹ کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ یہ فیصلہ یوکرین میں جنگ اور دیگر بحرانوں کے پس منظر میں انسانی وجود کو لاحق خطرات کے تناظر میں کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سےعالمی جنگی حالات کو سامنے رکھ کر سائنسدان اور سلامتی کے ماہرین فیصلہ کریں گے۔

جوہری سائنسدانوں کا بلیٹن 15:00 GMT پر اعلان کرے گا کہ آیا علامتی گھڑی کو اپ ڈیٹ کرکے اس کی سوئیاں کس ہندسے پر رکھی جائیں گی؟

تنظیم اس گھڑی کوایک "استعارہ" کے طور پر بیان کرتی ہے کہ انسانیت خود کو تباہ کرنے کے کتنی قریب ہے۔ گھڑی کو ری سیٹ کرنے سے قبل یہ دیکھا جاتا کہ آیا دنیا جنگوں یا کسی دوسری آفت کی وجہ سے کس حد تک خطرے میں ہے۔ اگرممکنہ خطرہ بڑھ رہا ہے تو خطرے کی نشاندہی کرنے والی سوئی کو آگے لے جایا جاتا ہےاور خطرہ کم ہو تو سوئی پیچھے لائی جاتی ہے۔

گھڑی کو دوبارہ ترتیب دینے کا فیصلہ ہر سال بلیٹن کےسائنسدان اور سلامتی کونسل اور اسپانسرز کی کونسل کرتی ہے، جس میں 11 نوبل انعام یافتہ شامل ہیں۔

سنہ2023ء کے لیے اشاعت میں کہا گیا ہے کہ وہ روس- یوکرین جنگ، حیاتیاتی خطرات، جوہری پھیلاؤ، موسمیاتی بحران، ریاستی سرپرستی میں غلط معلومات پھیلانے والی مہمات اور خلل ڈالنے والی ٹیکنالوجیز کو مدنظر رکھے گا۔

گھڑی کو جنوری 2021 میں آدھی رات سے 100 سیکنڈ پہلے منتقل کیا گیا تھا جو اس گھڑی کی تاریخ میں آدھی رات کے قریب ترین نقطہ ہے۔

گذشتہ برس اپ ڈیٹ کی گئی "قیامت کی گھڑی" میں خبردار کیا گیا تھا کہ دنیا اور تہذیب وتمدن بدستورخطرے کی زد میں ہیں اور دنیا خطرے میں ہے۔

گھڑی اصل میں آدھی رات سے سات منٹ پہلے سیٹ کی گئی تھی۔

آدھی رات سے سب سے زیادہ فاصلہ 17 منٹ تھا جو 1991 میں سرد جنگ کے خاتمے کے بعد طے کیا گیا تھا۔

قیامت کی گھڑی کی بنیاد 1945 میں البرٹ آئن سٹائن، جے رابرٹ اوپن ہائیمراور دوسرے سائنس دانوں نے رکھی تھی جنہوں نے مین ہٹن پروجیکٹ پر کام کیا، جس نے پہلا جوہری ہتھیار تیار کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں