امریکا میں2023ءکے پہلے 24 دنوں میں فائرنگ کے 39واقعات ریکارڈ،70 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکاکی ریاست کیلی فورنیا میں اختتامِ ہفتہ پرمونٹیری پارک میں فائرنگ کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہوگئے۔اس کے صرف دودن بعد قریباً 400 میل دور واقع ہاف مون بے میں فائرنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا تھااوراس میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ان کے علاوہ اس عرصے کے دوران میں امریکا کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے چاراورواقعات بھی پیش آئے۔اس سال کےآغاز میں فائرنگ کے واقعات کی تعداد پہلے ہی گذشتہ سال میں جنوری کے ان ہی دنوں کے مقابلے میں تجاوزکرچکی ہے۔

’امریکی بیماری‘کے نام سے مشہوراس مسئلہ کے پھیلاؤ پرنظررکھنے والی ایک غیرمنافع بخش تنظیم گن وائلنس آرکائیوکے مطابق 2023 کےآغاز سے 24 جنوری تک ملک میں فائرنگ کے 39 واقعات رونما ہوئے ہیں۔

تنظیم بڑے پیمانے پرفائرنگ کے واقعے یوں تعریف کرتی ہے کہ جس میں فائرنگ کرنے والے کے سوا کم سےکم چار افراد کو گولی لگی ہو۔

آرکائیو سے انکشاف ہوا ہے کہ 2023 کے پہلے تین ہفتوں کے دوران میں بڑے پیمانے پرفائرنگ کے نتیجے میں کم سےکم 70 افراد ہلاک اور167 زخمی ہوئے اور یہ اس سال بڑے پیمانے پرفائرنگ کے واقعات کا تاریخی طورپرتیزآغاز ہے،جنوری کے پہلے 24 دنوں میں گذشتہ 10 سال کے مقابلے میں زیادہ واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

گذشتہ سال امریکی کانگریس نے تین دہائیوں میں اسلحہ پرقابوپانے کے حوالے سے سب سے جامع قانون منظور کیا تھا۔اس میں پس منظر کی سخت جانچ پڑتال اور ریاستی سطح پر سرخ جھنڈے کے قوانین کی حمایت شامل تھی لیکن اس قانون سازی کے باوجود بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

امریکا میں ان الم ناک واقعات کے پیش نظروفاقی سطح پراسلحہ پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن کیلی فورنیا جیسی ریاست میں اسلحہ پرقابوپانے کی کوششوں کو سپریم کورٹ کی جانب سے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اس نے متعدد پابندیوں کوباربارختم کر دیا ہے۔ان میں زیادہ گنجائش والے میگزین پر پابندی بھی شامل ہے۔

ان افسوس ناک واقعات کے بعد امریکا میں اسلحہ کے کلچرسے نمٹنے کی کوشش میں صدرجوبائیڈن نے پیر کے روز کانگریس پر زور دیا کہ وہ آتشیں ہتھیاروں اور اعلیٰ صلاحیت والے میگزینوں پر پابندی لگانے اوربندوقوں کے خریداروں کی عمرکو بڑھا کر 21 سال کرنے کے لیے متعدد بل منظور کرے۔انھوں نے قانون سازوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس پر’فوری کارروائی کریں‘۔

صدربائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی عوام کی اکثریت اس عام فہم اقدام سے متفق ہے کیونکہ اپنے بچوں، اپنی برادریوں اور اپنی قوم کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے سے بڑی کوئی ذمہ داری نہیں ہوسکتی ہے۔

گن وائلنس آرکائیوکےاعدادوشمارکے مطابق یکم جنوری سے پنسلوینیا، شمالی کیرولائنا، فلوریڈا، الینائے، اوہائیو، ورجینیا، ڈسٹرکٹ آف کولمبیا، یوٹاہ، لوزیانا، ٹیکساس، کیلی فورنیا، لوزیانا، مسیسپی، ایریزونا، میسوری، کولوراڈو، جارجیا اورالاباما میں بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات ہوئے ہیں۔

یہ اعدادوشمارامریکا میں بندوق کے تشدد کی صورت حال کا ایک افسوس ناک احساس اورپہلو ہے۔نیز24 سال سے کم عمرافراد میں موت کی موجودہ سب سے بڑی وجہ بندوق کی گولی لگنے سے ہونے والے زخموں کی نشان دہی کی گئی ہے،جس کا ثبوت دسمبر 2022 میں امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کے جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں