ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کے تناظرمیں امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ مشقیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی فضائیہ آج بدھ کے روز امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کر رہی ہے۔ ان مشقوں میں ایران کی جوہری تنصیبات کے ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے بمباری کی جائے گی۔ یہ مشقیں مقبوضہ فلسطین کے صحرائے النقب میں ہو رہی ہیں۔

اسرائیلی ٹیلی ویژن اور اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی بمبار طیارے جنوبی اسرائیل کے صحرائے نقب میں اپنے اہداف پر 100 ٹن دھماکہ خیز مواد گرائیں گے۔

سوموار کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے مشرقی بحیرہ روم میں اسرائیلی فوج کے ساتھ مشترکہ مشقیں شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مشقیں اسرائیل تک بھی پھیلی ہوئی ہیں۔ ان مشقوں کا مقصد دونوں اطراف کی افواج کی جنگی تیاریوں کوبہتر کرنا اور علاقائی سلامتی کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے مشقوں میں 140 سے زائد طیارے حصہ لیں گے جن میں B-52 اسٹریٹجک بمبار، F-35 طیارے، 12 بحری جہاز، میزائل لانچرز اور دیگر شامل ہیں۔

ایران کی جوہری تنصیبات تباہ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہتھیار

قابل ذکر ہے کہ دونوں ممالک نے ایران کے جوہری پروگرام کے خطرات کے تناظر میں اپنی مشترکہ تیاریاں، ہتھکنڈے اور مشترکہ تعاون مکمل کر لیا ہے۔اسرائیل نے اس بات پر زور دیا تھا کہ وہ ایرانی جوہری پروگرام اور تہران کی توسیع پسندانہ پالیسی کو روکنے کے لیے جارحانہ پالیسی کے ساتھ کام کرے گا۔

اسرائیلی حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے ان کے تمام آپشن میز پر موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں