عالمی یو م تعلیم: افغان خواتین کا طالبان کے خلاف مظاہرہ

’’ہمیں طالبان کی تعلیم چاہیے نہ ہی طالبان کی حکومت‘‘ کے نعرے لگائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یونیسکو کی طرف سے افغانستان کے لیے مقرر کے گئے تعلیم کے عالمی دن کی مناسبت سے افغان خواتین اور لڑکیوں نے منگل کو ملک کے اندر مظاہرہ کیا۔ خواتین نے تعلیم کے حوالے سے طالبان کے حالیہ فیصلوں کے خلاف نعرے لگائے اور مسلط کردہ نظام کو مسترد کردیا۔ خواتین نے نعرے لگائے ’’ہمیں طالبان کی تعلیم چاہیے نہ ہی طالبان کی حکومت‘‘۔

خواتین کے دشمن

لڑکیوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ انہیں انتہاپسند تحریک کے دور میں تعلیم اور علم کے حق سے محروم رکھا گیا تھا جو خواتین سے دشمنی ہے۔ مظاہرہ کرنے والی خواتین نے کہا تعلیم کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور افغان لڑکیاں علم کی نعمت سے محروم رہتے ہوئے ہی اس دن کو گزار دیتی ہیں۔

واضح رہے چند ہفتوں قبل ہی طالبان کی حکومت کی جانب سے افغان خواتین کو غیر معینہ مدت کے لیے سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں میں جانے سے روکنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت میں ہائیر ایجوکیشن کے وزیر ندا محمد ندیم نے اس فیصلے کو یہ کہہ کر درست قرار دیا تھا کہ طالبات نے حجاب سے متعلق ہدایات پر عمل نہیں کیا۔

عالمی غم و غصہ

طالبان حکومت کو اپنے اس فیصلے پر عالمی برادر ی کے شدید غم و غصہ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دنیا کے بیشتر ملکوں نے طالبان کے ہاتھوں افغان خواتین پر ہونے والے اس ظلم کی شدید مذمت کی ہے۔ طالبان کی جانب سے خواتین کو زیادہ تر سرکاری ملازمتوں سے بھی نکال دیا گیا ہے یا انہیں گھر میں رکھنے کے لیے کم اجرت دی گئی ہے۔

خواتین کو بھی اب خاندان کے کسی مرد کے بغیر سفر کرنے کا حق نہیں ہے اور خواتین کے لیے چہرے کا پردہ کرنا بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔ گزشتہ سال نومبر میں طالبان حکومت نے خواتین کے پارکوں، باغات اور عوامی سوئمنگ پولز جانے پر پابندی لگا دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں