سعودی عرب کے جنوب میں ’وادی رنیہ‘ میں زندگی کی بہاریں لوٹ آئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے جنوب میں واقع وادی رنیہ کو مملکت کے زرخیز اور پانی سے مالا مال علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔حالیہ بارشوں نے اس وادی کا حسن دوبالا کر دیا اور مرجھائے پودوں میں جان آ گئی ہے۔ ہر طرف چشمے ابل پڑے ہیں اور نالے بہتے دیکھ جا سکتے ہیں۔ ہر سو ہریالی پھیل رہی ہے۔

ایک مقامی فوٹو فرافر سالم الغامدی حال ہی میں وادی رنیہ کا دورہ کیا اور اپنے کیمرے میں اس کے دلکش مناظر محفوظ کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے۔ ان مناظر میں وادی رنیہ کے قدرتی حسن کو دیکھا جا سکتا ہے۔ پانی کے جھرنے بہہ رہے ہیں اور زندگی کی بہاریں لوٹ آئی ہیں۔ یہ وادی الباحہ سے مملکت کے جنوب مشرق کی سمت میں پھیلا ہوا ایک وسیع علاقہ ہے اور اسے خطے کی بڑی وادیوں میں سےایک سمجھا جاتا ہے۔

فوٹوگرافر الغامدی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا "میں نے اس جگہ کا دورہ کیا جہاں قدرتی حسن اپنے جوبن پرتھا۔ وادی میں سال بھر پانی کی فراوانی ہوتی ہے اور یہ علاقے کے رہائشیوں کے لیے پسندیدہ جگہوں اور پارکوں میں سے ایک ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے لوگ دور دراز سے اس وادی کی سیر کے لیے یہاں آتے ہیں۔ سیاح اور مقامی شہری قدرتی مناظر اور حیرت انگیز ڈھلوانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور فوٹو گرافی کے شوقین یہاں کے مناظر سے اپنا شوق پورا کرتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ وادی رنیہ ’رنیہ‘ گورنری میں واقع ہے۔ یہ گورنری جنوب مشرق میں واقع ہے اور مکہ المکرمہ ریجن سے وابستہ ہے۔ رنیہ گورنری میں وادی رنیہ بھی شامل ہے۔ اس کے مشرق میں الباحہ علاقہ اور سعودی عرب کی جنوبی سمت میں ریاض کے شمال مشرق میں واقع ہے۔

وادی رنیہ اور دوسری گورنریوں کو پانی سے سیراب کرنے والے علاقوں میں بلقرن گورنری، خثعم مرکز، بلجرشی گورنری اور الباحہ کا علاقہ شامل ہیں۔یہ وادی اس گورنری کےنام پرہے جسے رنیہ گورنری کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس وادی کا یہ نام اس کے قدرتی حسن کی وجہ سے ’رنیہ‘ رکھا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں