امریکی سینیٹر کا ترک صدر ایردوآن پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی سینیٹر کرس وان ہولن نے ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی جانب سے فن لینڈ اور سویڈن کے لیے نیٹو کی رکنیت روکنے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور ترکی پر نئی پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈیموکریٹک سینیٹر نے شام میں داعش کے خلاف جنگ میں ترکی کے منفی کردار پر بھی تنقید کی۔

’’ایردوآن نے ترکی کو ایک بہت ہی برے راستے پر گامزن کیا ہے، جیسے جیسے ہم مئی میں ہونے والے انتخابات کی طرف بڑھ رہے ہیں، ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں"، وان ہولن نے کہا۔

گذشتہ ہفتے ایردوآن نے ترکیہ میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات مئی میں کرانے کا اعلان کیا تھا۔

وان ہولن نے استنبول کے میئر اور ایردوآن کے سیاسی مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ واضح طور پر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے اصول نہیں اپنا رہے۔"

واضح رہے کہ استنبول کے میئر اکریم امام اوغلو پر گذشتہ سال ترکی کے سپریم الیکٹورل بورڈ کی جانب سے تنقید کے باعث اس وقت پابندی عائد کر دی گئی تھی جب انہوں نے ایردوآن کی پارٹی پر بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد دوسرے انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔

سویڈن اور فن لینڈ کی نیٹو رکنیت

گذشتہ فروری میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے مغرب نے دونوں نورڈک ممالک کو نیٹو کی رکنیت کے لینے پر آمادہ کیا ہے۔ لیکن ترکی نے کچھ شرائط رکھی ہیں جن میں سے ایک ان افراد کو ترکی کے حوالے کرنا ہے جن کے بارے میں ترکی دعویٰ کرتا ہے کہ وہ دہشت گرد ہیں۔

امریکی سینیٹر کرس وان ہولن
امریکی سینیٹر کرس وان ہولن

امریکی سینیٹر کی ناراضی کی ایک وجہ یہ ہے کہ ترکی نے شمالی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف زمینی حملے کی دھمکی دی ہے جو داعش کے خلاف جنگ میں امریکہ کے لیے اہم شراکت دار ثابت ہوئے ہیں۔

تاہم بائیڈن انتظامیہ اور پینٹاگون کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد ترکی نے آپریشن کو فی الحال روک دیا ہے۔

گذشتہ سال نومبر میں ترکی نے شام میں ایک اڈے پر بھی بمباری کی تھی جس پر امریکہ کا کہنا تھا کہ اس سے امریکی افواج کو خطرے میں ڈالا گیا ہے۔

ترکی کے ساتھ تعلقات آگے بڑھانے کے بارے میں امریکی سینیٹر، جو سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن بھی ہیں، نے کہا کہ اگر ایردوآن فن لینڈ اور سویڈن کے نیٹو میں داخلے کی مخالفت جاری رکھتے ہیں تو "ممکنہ طور پر مختلف قسم کی پابندیوں" پر غور کرنے کے لیے یورپی یونین کے ساتھ ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ترکی کی جانب سے امریکی لڑاکا طیارے ایف سولہ کے حصول کی درخواست کی بھی حوالہ دیا۔ ترکی کو اس سے قبل ایف 35 مشترکہ اسٹرائیک فائٹر پروگرام سے نکال دیا گیا تھا کیونکہ اس نے روسی فضائی دفاعی نظام خریدا تھا جس کے بارے میں نیٹو کے اتحادیوں کا کہنا تھا کہ ان کی سلامتی کو خطرہ ہو گا۔

ڈیموکریٹک سینیٹر کے مطابق اس کے بعد سے ترکی نے ایف سولہ حاصل کرنے کے لیے لابنگ کی ہے۔

بائیڈن انتظامیہ نے ایف سولہ طیاروں کی فروخت کی حمایت کا اظہار کیا ہے، جس کی مالیت تقریباً 20 بلین ڈالر ہے۔ تاہم، کانگریس کے دونوں ایوانوں میں مخالفت کے باعث اس کا امکان کم ہے۔

اس صورت میں کہ بائیڈن انتظامیہ صدارتی حکم کے ذریعے طیاروں کی فروخت کا فیصلہ کرتی ہے، وان ہولن نے کہا کہ کانگریس میں نامنظوری کی قرارداد دائر کی جائے گی۔ "ظاہر ہے، صدر اسے ویٹو کر سکتے ہیں، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ صدر اس نوٹیفکیشن کو اپنی منظوری کے تحت جاری کرنا چاہتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں