سلواڈور کے فلسطینی نژاد صدرنجیب بوقیلہ نے دنیا کی سب سے بڑی جیل کیوں بنائی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایل سلوا ڈور اگرچہ وسطی امریکا میں 21 ہزار مربع کلومیٹرپر رقبے پر محیط براعظم کا سب سے چھوٹا ملک ہے جس کی آبادی بہ مشکل 66 لاکھ ہے۔ ایل سلوا ڈور کے صدر فلسطینی نژاد نجیب بوقیلہ ہیں جنہوں نے ملک میں دُنیا کی سب سے بڑی جیل بنائی ہے۔ بوقیلہ کی قائم کردہ جیل گینز بک میں دنیا کی سب سے بڑی جیل ہے۔ اس سے قبل یہ’اعزاز‘ ترکیہ کے پاس تھا جس کی ’مرمرہ سیزاوی‘ جیل کو گینز بک میں سب سے بڑی عالمی جیل قرار دیا گیا تھا۔ ترکیہ کی یہ جیل ساحل مرمرہ پر سنہ 2008ء میں تیار کی گئی تھی جو استنبول گورنری کے سلیوری شہر میں تعمیر کی گئی ہے۔

برطانوی اخبار دی ’ٹائمز‘ کی ایک تازہ رپورٹ میں ایل سلواڈور اور ترکیہ میں قائم کی جانے والی جیلوں پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ رپورٹ ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطالعے سے گذری ہے۔ گینز نے اکتوبر 2019 میں ترک پارلیمنٹ کی طرف سے استنبول سے 78 کلومیٹر دور اس جیل کی تحقیقات کی منظوری دی تھی۔ اس جیل میں اس وقت 22781 افراد قید تھے۔ جب کہ ایل سلواڈور میں کل 20 جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 63 ہزار ہے۔

اگرچہ فلپائنی دارالحکومت منیلا کی نیو بلیبڈ جیل میں 30,000 قید ہیں جب کہ اس میں قیدیوں کی سرکاری گنجائش صرف 6,345 ہے۔

اب بات کریں سلواڈرو کی نئی اور دنیا کی سب سے بڑی جیل کی تو 41 سالہ صدر نجیب بوقیلہ نے گذشتہ جمعرات کو ایک ٹیلی ویژن پر کہا تھا کہ انہوں نے اسے زیادہ سے زیادہ 60 دن میں مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس جیل سے فرار ناممکن ہے۔اس میں 37 گارڈ ٹاورز اور 8 سیل بلاکس ہیں۔اس کی عمارتوں میں 40,000 قیدیوں کو رکھا گیا ہے جو کہ 410 مربع میٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہ جیل دارالحکومت سان سلواڈور سے 73 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک دیہی علاقےتعمیرکی گئی ہے۔اس بارے میں وزیرتعمیرات عامہ رومیو روڈریگز کی طرف سے لکھی گئی تفصیلات میں بتایا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جیل میں 600 فوجی اور 250 پولیس اہلکار 24 گھنٹے خدمات انجام دیں گے۔

"مافیا کے خلاف جنگ" میں فلسطینی نژاد صدرنےاعتراف کیا کہ قیدیوں کو اس وقت "طوائفوں، پلے اسٹیشنوں، اسکرینوں، سیل فونز اور کمپیوٹرز کی سہولیات حاصل ہیں جس میں گینگ تشدد میں اضافہ ہوا ہے"۔ اس رپورٹ میں دی گئی ایک ویڈیو میں بھی ہم اس کی تفصیلات دیکھ اور سن سکتے ہیں۔

سب سے بڑے اور خطرناک گروہ کے خلاف جنگ

یہ گفتگو ویڈیو اس دورے کی ہے جو بوقیلہ نے کل بدھ کے روز جیل کی عمارت میں تیار ہونے والے حصوں میں کی تھی، جسے انہوں نے "دہشت گردی کو محدود کرنے کا مرکز" کہا تھا جسے مختصراً CECOT کے حروف سے جانا جاتا ہے۔

ایل سلواڈورکی سرحدیں بحرالکاہل میں ہنڈراس اور گوئٹے مالا سے متصل ہیں۔ گذشتہ مارچ میں سلواڈور نے سب سے بڑے اور خطرناک گروہ مارا سلواٹروچا جسے MS-13 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا۔ یہ رپورٹ بھی العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطالعے سے گذری۔ اس مہم کے دوران 3 دنوں میں 87 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ اس آپریشن میں پولیس نے کچھ کچی آبادیوں پر دھاوا بول دیا اور ہزاروں کی تعداد میں مشہورمجرموں کو گرفتار کیا۔

یہ گینگ نہ صرف ایل سلواڈور میں سرگرم ہے جیسا کہ دو ماہ قبل "نیشنل سینٹر فار گینگ انٹیلی جنس ان امریکا" کی طرف سے جاری کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے۔اس میں گینگ کے ارکان کی کل تعداد 50,000 سے 70,000 تک بتائی گئی ہے جن میں سے 8,000 اور 10,000 کے درمیان صرف ریاستہائے متحدہ امریکا میں ہیں جبکہ ہزاروں دیگر کینیڈا میکسیکو اور باقی وسطی امریکا میں سرگرم ہیں۔ البتہ جو فی الحال اس گروپ کے خلاف جنگ میں اکیلے بوقیلہ ہی اترے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں