انٹیلی جنس معلومات کو خطرہ نہیں تھا، اسی لیے غبارہ نہیں گرایا: پینٹا گون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان پینٹاگون نے جمعرات کی شام اعلان کیا تھا کہ اس نے کچھ مقامات پر امریکی آسمان میں بلندی پر چینی جاسوس غبارے کا سراغ لگایا ہے۔ اس اعلان کے بعد سوالات کا ایک طوفان کھڑا ہو گیا کہ امریکہ نے اس غبارے کو خاص طور پر جب وہ جاسوسی کر رہا تھا گرایا کیوں نہیں۔

پہلی مرتبہ ان سوالوں کا پینٹاگون کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل پیٹرک رائڈر نے دیا ہے، انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ غبارہ اس وقت بہت اونچائی پر پرواز کر رہا ہے، یہ اونچائی تجارتی ہوائی ٹریفک سے کہیں زیادہ تھی اور اس لیے یہ فوج کی نمائندگی نہیں کرتا تھا۔دوسری بات یہ تھی کہ اس کو تباہ کرنے سے زمین پر موجود لوگوں کو جسمانی نقصان کا خطرہ تھا۔

غبارہ انٹیلی جنس معلومات کے لیے زیادہ اہم نہیں

غبارے کو نہ گرانے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ اور عسکری برادری کو یقین ہے کہ زمین کے نچلے مدار میں موجود چینی جاسوس سیارچے معلومات اکٹھا کرنے یا زیادہ درست جاسوسی مشن انجام دینے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ غبارہ انتہائی بلندی پر تھا اور اتنی بلندی پر تین بسوں کے حجم والا غبارہ زیادہ درست معلومات حاصل نہیں کرسکتا تھا۔ اعلی دفاعی عہدیدار نے یہ بات سی این این سے گفتگو میں کی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ غبارہ کوئی قیمتی معلومات فراہم نہیں کرے گا۔

ایک اور اعلیٰ عہدے دار نے بتایا ہے کہ اعلیٰ فوجی حکام نے امریکی صدر جو بائیڈن کو مشورہ دیا کہ وہ اسے نہ گرائیں۔ اس ڈر سے کہ اس کا ملبہ زمین پر موجود لوگوں کی حفاظت کے لیے خطرہ بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ غبارے کی موجودہ پرواز کا راستہ اسے "متعدد حساس مقامات" پر لے جاتا ہے تاہم اس سے انٹیلی جنس جمع کرنے کا کوئی خاص خطرہ نہیں تھا۔

سب سے اہم بات!

تاہم اس غبارے کی اہمیت اس کے وقت کی وجہ سے سامنے آ جاتی ہے۔ یہ غبارہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آنے والے دنوں میں امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلینکن چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت بھی سامنے آیا ہے جب گزشتہ کل جمعرات کو امریکہ اور فلپائن نے اعلان کیا تھا کہ وہ جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں امریکی فوج کی موجودگی کو بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ فلپائن امریکہ کو چار دیگر فوجی اڈوں میں موجود رہنے کی اجازت دیتا ہے۔ واضح رہے بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان حال ہی میں تائیوان پر اختلافات اور انسانی حقوق کے میدان میں چین کے ریکارڈ اور بحیرہ جنوبی چین میں اس کی فوجی سرگرمیوں کی روشنی میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں