بائیڈن کی شاہ عبد اللہ سے ملاقات، القدس کی پرانی حیثیت برقرار رکھنے کی حمایت

امریکی صدر کی عراقی وزیر اعظم سے ٹیلی فونک گفتگو، عراقی معاشی منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جمعرات کو امریکی صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم کی میزبانی کے دوران القدس کے مقدس مقامات کی پرانی حیثیت برقرار رکھنے کی حمایت کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اردن کے بادشاہ اور ولی عہد حسین کے ساتھ لنچ کے دوران بائیڈن نے کہا کہ امریکہ اور اردن کے درمیان دوستی کی قریبی اور پائیدار نوعیت کی ہے۔ مسجد اقصیٰ کے ارد گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے بائیڈن نے القدس میں مقدس مقامات پر تاریخی جمود کو برقرار رکھنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ بائیڈن نے مملکت اردن کے القدس میں اسلامی مقدس مقامات کے نگہبان کے طور پر فیصلہ کن کردار کا بھی اعتراف کیا۔

فلسطین اسرائیل تنازعہ کے حوالے سے بائیڈن نے امریکی موقف کی توثیق کی اور ’’ دو ریاستی حل‘‘ کی بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے شاہ عبد اللہ دوم کی قریبی شراکت داری اور مشرق وسطیٰ میں استحکام کے حصول میں شاہ عبد اللہ اور اردن کے کردار پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

واضح رہے کہ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول اور تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ دوسری طرف یہودی مسجد کے صحن کو ٹیمپل ماؤنٹ قرار دیتے اور اسے اپنا مقدس ترین مقام کہتے ہیں۔ موجودہ صورتحال کے تحت غیر مسلموں کو مخصوص اوقات میں ٹیمپل ماؤنٹ جانے کی اجازت ہے لیکن ان پر وہاں عبادات کرنے کی پابندی ہے۔

حالیہ برسوں میں یہودیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد فلسطینیو ں کو اشتعال دلانے کی غرض سے مسجد اقصی ٰ کے صحن میں جاکر چپکے سے اپنی عبادت ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نئے اسرائیلی سلامتی امور کے وزیر ایتمار بن گویر نے مسجد اقصی کے صحنوں کا دورہ کرکے کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے۔ ان کے اس اقدام کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے۔ ان کے اس اقدام کو سرخ لکیر کراس کرنے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

دوسری جانب بائیڈن نے جمعرات کو عراقی وزیر اعظم محمد شیعہ السوڈانی کو فون کیا اور عراق کے لیے امریکہ کے عزم کا اعادہ کیا اور ان سے خطے کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر نے عراق کے ساتھ سٹریٹجک فریم ورک معاہدے کے لیے امریکہ کے عزم کا اعادہ کیا اور عراق کی خودمختاری اور آزادی کو بڑھانے کے لیے وزیر اعظم کی کوششوں کی تعریف کی۔ دونوں رہنماؤں نے عراقی وزیر اعظم کے اقتصادی ایجنڈے اور عراق کی معیشت کو عراقی عوام کی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل بنانے کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔بائیڈن نے عراقی وزیر خارجہ فواد حسین اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کے آئندہ ہفتے واشنگٹن آنے کا خیرمقدم کیا ۔ بائیڈن اور السوڈانی نے اس بات کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کی تجدید کی کہ ’’دولت اسلامیہ عراق و شام ‘‘ یا ’’ داعش ‘‘ کو دوبارہ عراقی عوام یا علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کو خطرہ میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں