ایران جلد وینزویلا کے سب سے بڑے آئل ریفائنری کی تزئین شروع کرے گا

امریکی پابندیوں کے باعث کاراکس کو کافی مقدار میں پٹرول اور ڈیزل پیدا کرنے میں مشکلات کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

باخبر ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران اور وینزویلا کی سرکاری کمپنیاں آنے والے ہفتوں میں جنوبی امریکی ملک کے سب سے بڑے ریفائنری کمپلیکس کی 100 دن کی تزئین و آرائش شروع کریں گی تاکہ اس کی خام تیل کشید کرنے کی صلاحیت کو بحال کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق پیراگوانا کی ڈسٹلری میں ایندھن کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے سرکاری کمپنی ’’پیٹرو لیوس ڈی وینزویلا‘‘ اور سرکاری نیشنل ایرانی آئل ریفائننگ اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی کی کوششیں جاری ہیں اور یہ کوششیں کاراکاس کا امریکی ریفائنری ٹیکنالوجی پر انحصار ختم کرنے کی جانب ایک قدم ہے۔

وینزویلا کے پاس دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے ذخائر ہیں۔ اسے گزشتہ کچھ سالوں میں ریفائنری کی ناکامی کا سامنا ہے۔ سرمایہ کاری کی کمی اور امریکی پابندیوں کی وجہ سے کافی مقدار میں پٹرول اور ڈیزل پیدا کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ اس کے باعث وینزویلا کی درآمدات میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ 2020 سے ملک میں پٹرول سٹیشنوں پر لمبی لائنیں ایک عام منظر بن گئی ہیں۔

تہران نے گزشتہ چند سالوں میں کاراکاس کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کیا ہے ۔ اس نے وینزویلا کے پرانے آئل ریفائنری نیٹ ورک کے لیے خام اور کنڈینسیٹ کے ساتھ ساتھ سپیئر پارٹس اور خام مال فراہم کیا گیا ہے۔ آئل ریفائنری نیٹ ورک کی یومیہ 1.3 ملین بیرل کی گنجائش ہے۔

نیشنل ایرانی آئل ریفائننگ اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی کے ایک یونٹ نے مئی میں کمپنی ’’ پیٹرولیوس ڈی وینزویلا‘‘ کے ساتھ 110 ملین یورو ($108 ملین) کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں تاکہ ملک کے وسط میں وینزویلا کی سب سے چھوٹی ریفائنری کی مرمت کی جا سکے۔ یہ سب سے چھوٹی ریفائنری ’’ ایل پالیٹو‘‘ ہے جس کی یومیہ پیداوار کی گنجائش ایک لاکھ 46 ہزار بیرل یومیہ ہے ۔ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس پر فی الحال کام ہو رہا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ آنے والے ہفتوں میں توقع ہے کہ دونوں کمپنیاں وینزویلا کے مغربی ساحل پر 9 لاکھ 55 ہزار بیرل یومیہ پیداوار گنجائش والی ریفائنری ’’پیراگوانا ڈسٹلٹری کمپلیکس ‘‘ کی تزئین کے لیے 460 ملین یورو یا 497 ملین ڈالر کے معاہدہ پر دستخط کر دیں گے۔

کاراکاس میں ایرانی سفارت خانے اور وینزویلا کی تیل کی وزارت کے ٹویٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان جمعہ کو کاراکاس پہنچے جہاں انہوں نے وینزویلا کے وزیر تیل طارق العیسمی سے ملاقات کی۔ سفارت خانہ نے ان کی گفتگو پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ اسی طرح ایرانی اور وینزویلا کی تیل کمپنیوں نے تبصرہ کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں