غبارہ گرانے پرامریکہ کو ضروری جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے: چین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چین کی وزارت خارجہ نے آج اتوار کو اعلان کیا ہے کہ چین کو اپنے غبارے پر حملہ کرنے کے لیے امریکہ کی طرف سے طاقت کے استعمال پر اپنے شدید عدم اطمینان اور اعتراض ہے۔بیجنگ نے پینٹاگون کی جانب سے ایک چینی غبارے کو مار گرانے کے فیصلے پر بھی تنقید کی اورکہا کہ امریکہ کی طرف سے زیادہ سے زیادہ رد عمل اور بین الاقوامی طرز عمل کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یاد رہے واشنگٹن نے غبارے کے متعلق شبہ ظاہر کیا تھا کہ یہ غبارہ جاسوسی کے مقاصد کے لیے ہے اور اس کی نگرانی شمالی امریکہ پر کی گئی تھی۔

ضروری جواب کا حق

چینی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ چین بغیر پائلٹ کے سویلین غبارے پر حملہ کرنے کے لیے امریکہ کی طرف سے طاقت کے استعمال پر سخت برہمی اور احتجاج کا اظہار کرتا ہے۔ چین مزید ضروری ردعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ بیجنگ کی یہ مذمت امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے کہ ہفتے کے روز امریکی شمالی کمان کے ایک لڑاکا طیارے نے صدر جو بائیڈن کی ہدایت پر چینی جاسوسی غبارہ کو مار گرایا تھا۔ یہ غبارہ جنوبی کیرولینا کے ساحل پر بحر اوقیانوس کے اوپر کافی اونچائی پر جا رہا تا۔

سمندر میں گر گیا

آسٹن نے وزارت دفاع کی طرف سے شائع کردہ ایک بیان میں مزید کہا کہ مشتبہ جاسوس غبارے کو مار گرانے کی کارروائی امریکہ کی فضائی حدود میں ہوئی اور یہ غبارہ امریکہ کے علاقائی پانیوں میں گرا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بائیڈن نے اس صورت میں غبارے کو گولی مارنے کا اختیار دیا تھا جب یہ ممکن ہو کہ غبارے کے راستے میں زمین پر موجود امریکیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر مشن کو پورا کیا جا سکے گا۔

فضائی حدود کو دوبارہ کھولنا

اسی وقت امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے غبارہ کو مار گرانے کے بعد فضائی حدود کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا۔ انتظامیہ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ ہوائی اڈوں ولیمنگٹن، مرٹل بیچ انٹرنیشنل اور چارلسٹن انٹرنیشنل کے لیے پروازیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔ دوسرے مقامات کی فضائی حدود دوبارہ کھل گئی ہیں اور معمول کی کارروائیاں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔

ملبے کو نکالنے کی کوششیں جاری

اسی تناظر میں ایک امریکی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ جنوبی کیرولینا کے ساحل سے غبارے کے ملبے کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ بعدازاں کینیڈا کی وزیر دفاع انیتا آنند نے کہا کہ ان کا ملک چینی غبارے کو مار گرانے کے فیصلے میں امریکہ کے ساتھ قریبی طور پر ملوث تھا۔ کینیڈین حکومت کے ایک بیان میں وزیر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ان کے ملک نے غبارے کو گولی مارنے کے عمل میں اٹھائے گئے اقدامات کی واضح طور پر حمایت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں