چینی غبارہ گرانے والے ایف 22 ریپٹر کی فضا میں ہدف کو نشانہ بنانے کی پہلی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چین کے مشتبہ جاسوس غبارے کو گرانے کےحوالے سے دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے یہ ایف 22 ریپٹر لڑاکا طیارے کی فضائی ہدف کو نشانہ بنانے کی پہلی کارروا‏ئی ہے۔ امریکہ نے ایک دہائی قبل ان طیاروں کا استعمال شام اور عراق میں شروع کیا تھا۔

دفاعی تجزیہ کار اور آئی آر آئی ایس انڈیپنڈنٹ ریسرچ کی صدر ربیکا گرانٹ نے تصدیق کی ہے کہ یہ ایف 22 ریپٹر کی فضا سے فضا میں مارنے کی پہلی کاروائی ہے۔

''دی وار زون'' نے بھی اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ یہ آپریشن ''سب سے زیادہ بلندی پر فضا سے فضا میں نشانہ بنانے کی کاروائی ہو سکتا ہے۔''

پینٹاگون حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ ایف 22 طیارہ جنوبی کیرولائنا کے ساحل سے تقریباً 58,000 فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا جب اس نے غبارے پر ''جو 60,000 سے 65,000 فٹ کے درمیان اونچائی پر تھا'' اے آئی ایم سائیڈ ونڈر میزائل فائر کیا۔

لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن کے تیار کردہ جیٹ نے 2015 میں اپنی جنگی مہمات کا آغاز کیا تھا۔ ریپٹر کے نام سے مشہور اسٹیلتھ فائٹر کو بنیادی طور پر شام اور عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی حملوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔

امریکی حدود میں چینی غبارے کی موجودگی کا انکشاف ہونے کے بعد چین کا کہنا تھا کہ یہ موسمیاتی تحقیق کرنے والا غبارہ تھا جو راستے سے ہٹ گیا ۔ تاہم اس واقعے نے امریکہ اور چین کے تعلقات میں تناؤ بڑھا دیا۔

غبارے کے منظر عام پر آنے سے تین ماہ قبل امریکی صدر جو بائیڈن اور چینی صدر شی جن پنگ نے بالی میں ہونے والی اپنی پہلی ملاقات میں مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ چین اس غبارے کو "امریکہ میں اسٹریٹجک مقامات کی نگرانی کی کوشش میں استعمال کر رہا ہے۔" امریکی حکام پر امید ہیں کہ آپریشن کے بعد غبارے کے بارے مزید معلومات حاصل کرنا ممکن ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں