اسٹارلنک سےتیز:ایس ٹی سی کا2023 میں سعودی عرب کے لیے سیٹلائٹ انٹرنیٹ کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی (ایس ٹی سی) 2023 میں تیزرفتار سیٹلائٹ انٹرنیٹ متعارف کرانے پر غور کررہی ہے اورانٹرنیٹ کی سہولت مملکت کے تمام کونوں تک پہنچائی جائے گی۔

ایس ٹی سی کے جنرل منیجربزنس ڈویلپمنٹ سعدالربیعہ نے العربیہ کو بتایا کہ کمپنی پہلے ہی نیوم کے مجوزہ میگاسٹی میں اس ٹیکنالوجی کا تجربہ کرچکی ہے۔

الربیعہ نے الریاض میں منعقدہ لیپ کانفرنس کے موقع پرکہا:’’ہم اس سال 2023 میں بڑے پیمانے پر آگے بڑھنے پر غور کر رہے ہیں‘‘۔انھوں نے وضاحت کی کہ ’’ایس ٹی سی اسٹارلنک کے مقابلے میں زیادہ رفتار کے ساتھ استعمال کی منصوبہ بندی کر رہی ہے‘‘۔

ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک کم ترقی یافتہ ممالک کو انٹرنیٹ تک رسائی مہیاکرنے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ایس ٹی سی کے منصوبے کا مقصد مملکت کے تمام علاقوں میں تیزرفتارانٹرنیٹ مہیّاکرنا ہے،جہاں پہلے ہی اس کی قریباً 90 فی صد آبادی کی انٹرنیٹ تک رسائی ہے۔

الربیعہ کے مطابق انٹرنیٹ تک بہتر رسائی دیہی علاقوں میں لوگوں کےزندگی کے تجربے کو بہتر بنائے گی،جس سے وہ دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ بات چیت کر سکیں گے، اورتعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کی بہترسہولتوں تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’اس سے حکومتوں کو یہ یقینی بنانے میں بھی مدد ملے گی کہ دیہی علاقوں میں اخراجات زیادہ مؤثر ہیں کیونکہ لوگ کچھ خدمات تک آن لائن رسائی حاصل کرسکیں گے‘‘۔

ایس ٹی سی جن دیگر اقدامات پر کام کررہی ہے،ان میں اس کا اسمارٹ شہری پروگرام شامل ہے۔یہ ٹریفک کے بہاؤکو ٹریک کرتا ہے،حکام کو ٹریفک کو دوبارہ روٹ کرنے کے لیے ضروری معلومات فراہم کرتا ہے اور اس مقصد کے لیے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتا ہے۔

ایس ٹی سی کے زیراستعمال ڈرون ٹیکنالوجی ملک کے وسیع صحرا میں معدنیات کی کان کنی کے لیے ممکنہ مقامات کی تلاش میں مدد دے رہی ہے۔

ایس ٹی سی کے مصنوعی ذہانت سے لیس کیمرے اور ریموٹ کنٹرول کرینیں الدمام بندرگاہ پرجہازوں کواتار رہی ہیں۔الربیعہ نے کہا کہ اس عمل کی خودکاری اسے زیادہ مؤثربناتی ہے اور کسی بھی ممکنہ حادثے کو کم کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں