ترکیہ، شام میں ہولناک زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 5 ہزار سے متجاوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترکیہ اور شام میں زلزلے سے متاثرہ عمارتوں کے ملبے سے لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک دونوں ملکوں میں ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ گذشتہ روز آنے والے تباہ کن سلسلہ وار زلزلوں سے زمین بوس ہوجانے والی عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کا عمل شدید سرد موسم کے باوجود جاری ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ کی ڈیزاسٹر میجنمنٹ اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایف اے ڈی) کا کہنا ہے کہ اموات کی تعداد 3 ہزار 419 ہوگئی ہے جبکہ صدر طیب اردوان نے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 549 ہو چکی ہے۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق دنیا بھر سے امدادی ٹیمیں امدادی سامان اور رضاکاروں کے ہمراہ ترکیہ پہنچ رہی ہیں۔ صرف ترکی میں لگ بھگ چھ ہزار عمارتیں گرنے کی اطلاعات ہیں۔ زلزلے کے بعد اب تک 285 آفٹر شاکس آ چکے ہیں۔

ترکی کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے کہا کہ 13 ہزار سرچ اینڈ ریسکیو اہکار تعینات کیے گئے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں 41 ہزار خیمے، ایک ہزار بستر اور 3 لاکھ کمبل روانہ کیے جاچکے ہیں۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے جنوبی ترکی میں بدترین زلزلے سے متاثرین ہونے والے 10 صوبوں کے مذکورہ علاقوں میں 3 ماہ کے لیے ہنگامی صورت حال نافذ کر دی ہے تاکہ ریسکیو اور سرچ آپریشن میں تیزی آ سکے۔

انہوں نے کہا کہ 70 ممالک نے تلاش اور امدادی کارروائیوں میں مدد کی پیش کش کی ہے اور ترکیہ نے سیاحتی مرکز انطالیہ میں زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے عارضی طور پر ہوٹلز کھولنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 549 ہو چکی ہے۔

شام کی حکومت اور ریسکیو سروس کے مطاق گیارہ سال سے جاری جنگ سے متاثرہ ملک میں اب تک 1500 ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ جنوب مشرقی ترکیہ میں کہرمان مرعش کے شہر میں عینی شاہد زلزلے سے ہونے والی تباہی کو الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہیں۔

پیر کے روز آنے والے زلزلے سے صرف ترکیہ میں اب تک 16 ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں میں بے تحاشہ اضافے کا خدشہ ہے اور عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق اس بدترین تباہی کے نتیجے میں اموات کی تعداد 20 ہزار ہو سکتی ہے۔

غازی انتیپ، جہاں شام میں ایک دہائی طویل جنگ سے پناہ کے لیے ترکیہ آنے والے ہزاروں افراد قیام پذیر تھے، وہاں ریسکیو ورکرز چیختے اور روتے ہوئے ملبے کو ہٹانے میں مصروف تھے کہ یکایک ایک اور عمارت منہدم ہو گئی۔ ابتدائی زلزلہ اتنا شدید تھا کہ اسے گرین لینڈ جتنا دور محسوس کیا گیا اور اس کے اثر نے عالمی ردعمل کو جنم دیا ہے۔

صرف ترکیہ میں زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 2 ہزار 921 تک پہنچ چکی ہے۔ انتہائی سرد موسم کے باوجود خوف میں جکڑے رہائشیوں نے رات سڑک پر گزاری اور گرمی کے لیے آگ کے الاؤ روشن کیے۔

اس سے قبل ترکیہ میں سال1999 میں مہلک ترین زلزلہ آیا تھا جس میں 17 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان سے امدادی سامان ترکیہ روانہ

وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر ترکیہ کے زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے خصوصی طیارہ سامان لے کر ترکی پہنچا۔

منگل کی صبح پی آئی اے کی پرواز سے ریسکیو 1122 کے 50 اہلکاروں پر مشتمل ٹیم 15 ٹن سامان روانہ کیا گیا ہے۔ امدادی سامان میں سردی میں استعمال ہونے والے خیمے، کمبل اور دیگر اشیائے ضروریہ شامل ہیں۔

حکام کے مطابق آٹھ فروری سے ہر روز پی آئی اے کی پروازوں کے ذریعے اسلام آباد اور لاہور سے 15 ٹن امدادی سامان ترکیہ اور شام بھیجا جائے گا جب کہ وزارتِ صحت اور آرمی میڈیکل ٹیمیں بھی متاثرہ ملکوں کو بھجوائی جائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں