’زلزلے سے اسپتال گرنے لگا مگرنرسوں نے کہا کہ ہم مریضوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گی‘

ترکیہ میں ایک اسپتال میں مریضوں اور طبی عملے کا خوفناک انجام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ریسکیو ٹیمیں ترکیہ کے شہر اسکندرون کے ایک سرکاری اسپتال کے کھنڈرات کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کا کچھ حصہ پیر کو آنے والے تباہ کن زلزلے سے زمیں بوس ہوگیا تھا جس میں تقریباً 4,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اندھیرا ہوتے ہی ایک زخمی کو ملبے سے نکال کراسٹریچر پر لے جایا گیا۔ امدادی کارکن ملبے کے اس بڑے ڈھیرسےزخمیوں اور جاں بحق ہونے والوں کو نکالنے کے لیے گئےتو پتا چلا کہ اسکندرون اسپتال کا تباہ ہوچکا ہے۔ اسپتال کا انتہائی نگہداشت کا سیکشن تباہ ہوچکا ہے۔ امدادی کارکن اس مقام پر بارش اور سرد موسم کے باوجود جہاں روشنی کے لیے جنریٹراستعمال کیے گئے تھے، مزید زندہ بچ جانے کی امید کر رہے تھے۔

لواحقین اپنے پیاروں کا حال جاننے کے لیے جمع تھے۔ تیس سالہ ایک خاتون ٹولن نےکہا کہ ہمارے پاس ایک مریض ہے جسے آپریٹنگ روم میں لے جایا گیا تھا، لیکن ہم نہیں جانتے کہ کیاوہ بچ سکے گا یا نہیں۔ خاتون مسلسل روئے جا رہی تھی اور اس کے لبوں پر دعائیں اور التجائیں تھیں۔ اس کا کہنا تھا کہ آج میری خالہ سمیت تین رشتہ دار کھو گئے۔ میرے چچا ملبے تلے دبے ہیں۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ خیریت سے ہوں۔ ڈر ہے کہ ہم انہیں بھی کھو نہ دیں۔

اسپتال کے اس حصے میں جو اب بھی کھڑا ہے، صحت کے کارکنان افراتفری کے ماحول میں زخمیوں کی دیکھ بھال کررہےہیں۔ ایمبولینسز نہ ہونے کی وجہ سے زخمی پرائیویٹ کاروں میں لائے جاتے رہے اور درجنوں لوگ اسپتال کے داخلی دروازے پر فرش پر چٹائیوں پر لیٹائے گئے۔

انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں ایک نرس نے اپنا نام میرف بتایا۔ اس نے کہا کہ وہ رات کی شفٹ پر تھیں جب صبح سے پہلے زلزلہ آیا۔ اچانک، عمارت لرزنے لگی اور زلزلے کے جھٹکے آہستہ آہستہ بڑھنے لگے۔ میں اور میرے دوستوں نے عمارت سے نکلنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی ہم نے اپنے مریضوں کواکیلا چھوڑا۔ پھر ہم نے ایک خوفناک شور سنا اور عمارت گررہی تھی"۔

اس نے مزید کہا کہ سیڑھیوں کو نقصان پہنچ چکا تھا، ہم عمارت سے باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ ہمیں پہلے تو معلوم نہیں تھا کہ عمارت کا بڑا حصہ گر گیا ہے لیکن جب ہم اپنے کمرے سے باہر نکلے تو راہداری ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔"

میرف نے مزید کہا کہ بالآخر اسے بچا لیا گیا، لیکن عمارت کے دوسرے حصے میں اس کے ساتھی اور مریض اتنے خوش قسمت نہیں تھے۔ وہ ملبے تلے دب چکے ہیں۔15 گھنٹے گزر چکے ہیں، میں اپنے کسی ساتھی سے رابطہ نہیں کر سکتی اور ان میں سے کسی کو بھی ملبے کے نیچے سے نہیں نکالا گیا۔ میرے ساتھیوں نے اپنے مریضوں کو نہیں چھوڑا اور مجھے نہیں معلوم کہ ان کا انجام کیا ہوا ہے۔"

زلزلے سے صرف خطائی صوبے میں 1,200 سے زیادہ عمارتیں تباہ ہوئی ہیں۔ اسکندرون شہر بھی اسی میں واقع ہے۔ ترک وزیر صحت فخر الدین قوجہ نے کہا کہ خطائی میں کم از کم 520 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں