امداد میں ہر گھنٹہ کی تاخیر 50 اموات کا سبب بن رہی، شام کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شمالی شام میں امدادی ٹیموں نے ملک میں صورت حال کی سنگینی سے خبردار کردیا ہے اور کہا ہے کہ امدادی سامان کی قلت کے باعث امدادی کارروائیوں میں بھی کمی آرہی ہے۔ ٹیموں نے بتایا کہ امداد ی سامان کے بروقت نہ پہنچنے سے جانی نقصان بڑھنے کا خدشہ ہے۔ شام میں امدادی کارروائیوں میں ایک گھنٹہ کی تاخیر 50 اموات کا سبب بنا رہا ہے۔ ملک کے شمال مغرب میں حزب اختلاف کی حکومت میں وزیر صحت حسین بازار نے کہا کہ اپوزیشن کے زیر کنٹرول علاقوں میں طبی شعبہ تباہی کے پیمانے کو احاطے میں لانے سے قاصر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال کا پورا اندازہ لگانا ہماری صلاحیت سے باہر ہے۔ درجنوں خستہ حال عمارتیں اب بھی ایسی ہیں جن میں مکین موجود ہیں۔ خطے کو ضروری طبی امداد کی فراہمی کے لیے فوری بین الاقوامی اقدام کی ضرورت ہے۔

Advertisement

کوئی امداد نہیں آئی

اس تناظر میں ’’العربیہ ‘‘کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ابھی تک کوئی بھی بین الاقوامی امداد ترک کراسنگ سے داخل نہیں ہوئی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ باب السلام اور الراعی کی دو کراسنگز امداد کے داخلے کے لیے کھلی ہیں۔ ادلب کے شہر حارم اور سلقین ترکی کی سرحد کے قریب ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ہیں۔ حارم شہر میں 15 کثیر المنزلہ عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔

شام میں امداد کی اعلیٰ کمیٹی کے سربراہ حسین مخلوف نے تصدیق کی کہ ان کا ملک ایسی آفات کے لیے تیار نہیں تھا۔ شامی حکومت کے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ان کے ملک پر عائد پابندیاں متاثرہ گورنری میں زلزلے سے نمٹنے کی کوششوں میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پابندیوں کی وجہ سے ریاست کی جانب سے ایسے میکانزم کی کمی کو پورا کرنے میں ناکامی ہوئی جو اسے زلزلے کے اثرات کا سامنا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ شامی حکومت کے وزیر صحت حسن الغباش نے کہا کہ حکومتی فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں میں زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 1,250 ہو گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں