شامی زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ دیں: اقوام متحدہ

امریکی اور مغربی پابندیاں متاثرہ افراد تک امداد پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں: گیئر پیڈرسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی گیئر پیڈرسن نے بدھ کے روز ملک میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد شامیوں کو فوری مدد حاصل کرنے کو یقینی بنانے کے لیے تمام سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شام پر امریکی اور مغربی پابندیاں زلزلے سے متاثرہ افراد تک امداد پہنچنے سے روک رہی ہیں۔ زلزلے سے جو تباہی ہوئی ہے وہ ناقابل تصور ہے۔ تمام متاثرہ علاقوں میں شامیوں کو فوری مدد اور تیز ترین راستے کی اشد ضرورت ہے۔

اے ایف پی نے بتایا کہ دمشق میں اقوام متحدہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق اقوام متحدہ نے بدھ کے روز شامی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیاست کو ایک طرف رکھ دے اور شمال مغربی شام میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امداد کی فراہمی کو آسان بنائے۔ شام میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر مصطفیٰ بن الملیح نے کہا کہ میری اپیل ہے، سیاست کو ایک طرف رکھیں اور آئیے اپنا انسانی ہمدردی کا کام کریں۔ ہم انتظار کرنے اور مذاکرات کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ جب تک ہم مذاکرات کریں گے، بہت کچھ ختم ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ شام پر پابندیاں وہاں انسانی ہمدردی کے کاموں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ان پابندیوں نے زلزلے سے متاثر ہونے والوں کے لیے لاکھوں ڈالر کی مادی امداد کی آمد کو روک دیا ہے۔

اسی تناظر میں شام کے بحران کے لیے اقوام متحدہ کے علاقائی انسانی ہمدردی کے کوآرڈینیٹرمہند ہادی نے کہا کہ بین الاقوامی تنظیم کو امید ہے کہ اس تباہ کن زلزلے کے بعد روکے جانے کے بعد کل جمعرات کو ترکیہ سے شمال مغربی شام تک اہم امداد کی ترسیل دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

خیال رہے ترکیہ اور شام میں پیر کی صبح آنے والے زلزلے نے شامی عوام کی مدد کے لیے انسانی ہمدردی کی تنظیموں کو درپیش چیلنج کو دوگنا کردیا۔ خاص طور پر ادلب گورنری میں جو ملک کے شمال مغرب میں مخالف دھڑوں کے زیر کنٹرول ہے۔ ملک کے شمال مغرب میں مختص انسانی امداد کا بڑا حصہ ترکیہ سے باب الھوی کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔ یہ واحد کراسنگ پوائنٹ ہے جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی ضمانت دی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں