ایرانی مظاہرین سے یکجہتی، اطالوی پینٹر نے کارٹون ’’دی سمپسنز ‘‘ کا سہارا لے لیا

معروف امریکی کارٹون کی شادی نے ایرانیوں کو سپریم لیڈر کی مخالفت سے نجات دلا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سیاست، معیشت اور معاشرے میں کسی کی حمایت یا کسی کی مخالفت کرنے کے لیے فنون لطیفہ بڑا سہارا بن جاتے ہیں۔ ایران میں گزشتہ برس کے وسط ستمبر سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔ اس احتجاج میں سیاستدانوں، سکالرز اور انسانی حقوق کارکنوں کے ساتھ فنکار اور کھلاڑی یھی شریک ہو چکے ہیں۔

اب مشہور اطالوی مورالسٹ الیگزینڈرو پالمبو بھی مظاہرین کے ساتھ یک جہتی کرنے کے لیے آگے آئے ہیں۔ انہوں نے نیا انداز اپنایا اور اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے کارٹون ’’ دی سمپسنز‘‘ کے کرداروں کو سہارا لے لیا۔ انہوں نے مدر مارج کا کردار دیوار پر بنایا۔ وہ میلانو میں ایرانی قونصل خانے کے سامنے پہنچے اور دیوار پر تصاویربنائیں ۔ ان کی بنائی تصویر میں مدر مارچ نے ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کا سر اٹھایا ہوا تھا۔

62
62

تین دیواروں کی کہانیاں

مشہور اطالوی پینٹر مارج سمپسن نے اپنی پہلی دیوار میں ان ایرانی خواتین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا جنہوں نے کرد لڑکی مہسا امینی کے قتل پر اپنے غم کے جذبات بیان کیے تھے۔

دوسرے دیوار میں مارج اپنے دائیں ہاتھ میں کٹی ہوئی وگ کے ساتھ نظر آتی ہیں اور بائیں ہاتھ میں قینچی کا ایک جوڑا پکڑا ہوا ہے اور اپنی درمیانی انگلی سے ایران میں حکومت کے رہنماؤں کی توہین کے طور پر اشارہ کر رہی ہیں بائیں جانب علی خامنہ ای ہیں۔

سنسر شپ

مصور الیگزینڈرو پلمبو نے حزب اختلاف کے اخبار ’’کیہان لندن ‘‘ کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے رات کے وقت دیواروں کو مسخ کردیا۔ کسی کو اس سے ایران کے تعلق پر شبہ نہیں ہے۔

ممتاز ایرانی صحافی احمد رفعت کے ساتھ اپنی گفتگو کے دوران پلمبو نے تہران کے "طالبان کی سنسرشپ" کے عمل کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ جو کچھ ہم میلان میں دیکھ رہے ہیں، وہ آرٹ کی طاقت سے تہران کے آمروں کا خوف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا سیاہ رنگ آزادی پسندوں کی تحریک میں رکاوٹ نہیں بن سکے گا اور ہم اپنے رنگوں سے ایرانی خواتین کی بہادر جدوجہد اور ایرانی خواتین اور اس ملک کے عوام کی مزاحمت کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں گے۔

معروف مصور الیگزینڈرو پالمبو کی تصویر 20 سال سے زیادہ عرصے سے نہیں دیکھی گئی تھی وہ کبھی کسی ٹیلی ویژن انٹرویو میں بھی نظر نہیں آئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اپنے دیواروں میں مارج سمپسن کا کردار کیوں منتخب کیا؟ انہوں نے کہا کہ مارج اور سمپسن کے پورے خاندان کو 2012 سے ایران میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ اس وقت ایرانی حکام نے اس کارٹون سیریز کی نشریات کو روک دیا تھا۔ حکام نے دنیا بھر میں اس مشہور خاندان کی تصاویر والی چیزوں کی فروخت پر بھی پابندی لگا دی تھی۔ ایران نے اس کارٹون کو ایک غیر اخلاقی سلسلہ سمجھا جس کا بچوں اور نوعمروں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

حکومت کی رخصتی

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں نے سوچا کہ جب سے مارج سمپسن کو ایران سے نکال دیا گیا تھا۔ ان ایرانیوں کی طرح جو زبردستی بیرون ملک مقیم ہیں۔ ان کے پاس ان دنوں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ ایک جمہوری ملک میں اسلامی جمہوریہ کے قونصل خانے کے سامنے احتجاج کریں تاکہ ایرانیوں سے کہا جا سکے کہ فاصلے کے باوجود ہم بھی تمہارے ساتھ ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ مارج سمپسن نے خنجر اور علی خامنہ ای کا کٹا ہوا سر کیوں اٹھایا؟ تو پلمبو نے اسے حکومت کی رخصتی کی علامت سمجھا اور جواب دیا کہ ایرانی عوام کی 4 ماہ سے زیادہ کی مسلسل جدوجہد کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ ان کا ایک مطالبہ ہے اور مارج سمپسن بھی اس مطالبے کا دفاع کر رہی ہیں، وہ مطالبہ حکومت اور علی خامنہ ای کی رخصتی کا مطالبہ ہے۔ ظاہر ہے اس مطالبہ کے لیے مظاہرین نے بھاری قیمت ادا کی ہے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں