’اسمارٹ فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار بنے‘

ترکیہ میں زلزلے سے تباہ ایک عمارت کے ملبے سے 104 گھنٹے بعد ایک شخص کو زندہ نکال لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترکیہ میں زلزلے کی تباہ کاریوں کے بے شمار مناظر سامنے آ رہے ہیں۔ ترکیہ میں شام کی سرحد کےقریب بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ ریسکیو آپریشن میں ایک شخص کو زلزلے کے 104 گھنٹے گذرنے کے بعد ایک عمارت کے ملبے کے نیچے سے زندہ نکالا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتےکی صبح آنے والے زلزلے کے نتیجے میں جنوبی ترکیہ کے شہروں انطاکیہ، مرعش، اضنا، غازی عنتاب، ادی یمان، دیار بکر بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

جمعے کی صبح سے گردش کرنے والے ایک ویڈیو کلپ میں ایک بچے کو بچاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو 6 فروری کی صبح زلزلہ آنے کے بعد سے ملبے تلے دب گیا تھا۔ امدادی ٹیمیں بچی کو نکالنے میں کامیاب ہوگئیں۔ بچی زندہ تھی حالانکہ اس نے انطاکیا شہر میں ملبے کے نیچے 103 گھنٹے گزارے۔ ترکیہ میں انطاکیا دوسرا شہر ہے جو اس مہلک زلزلے سے متاثر ہوا ہے۔ اس علاقے میں اس کے بعد گذشتہ پیر کی صبح سے لے کر اب تک ایک ہزار سے زیادہ آفٹر شاکس آئے ہیں۔

ترک ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی اتھارٹی نے بتایا کہ زندہ نکالی جانے والی بچی بے ہوش تھی لیکن ابتدائی طبی امداد کے بعد اس کی صحت بحال ہوگئی۔ مقامی ترک میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کے مطابق ملک کے شمال وسطی اور مغربی حصوں میں زبردست انسانی اور مادی نقصان ہوا ہے۔

مرعش اور غازی عنتاب شہروں میں بھی ایسا ہی منظر تھا۔ پہلے شہر میں ریسکیو ٹیمیں ایک شخص کو 104 گھنٹے تک پھنسے رہنے کے بعد ملبے کے نیچے سے نکالنے میں کامیاب ہوئیں جبکہ دوسرے شہر میں وہ ایک 66 سالہ شخص کو نکالنے میں کامیاب ہو گئیں۔ یہ شخص بھی 103 گھنٹے تک ملبے کے نیچے پھنسا رہا۔

ساٹھ کی دہائی کا یہ شخص اپنے فون کے ذریعے زلزلے کے آنے کے چند گھنٹوں بعد تک اپنے خاندان سے رابطے میں تھا، جس کا مطلب ہے کہ ملبے کے نیچے پھنسے افراد کو تلاش کرنے میں مواصلاتی سروسز کا اہم کردار ہے۔

غازی عنتاب شہر سے تعلق رکھنے والے ایک تُرک صحافی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "اسمارٹ فونز نے ملبے تلے دبے بہت سے لوگوں کو بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا، خاص طور پر چونکہ ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ زلزلے سے زیادہ متاثر نہیں ہوا تھا۔ اس کے برعکس بجلی کا نظام زیادہ متاثر ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں نےغیرمعمولی نقصان کے باوجود اپنی خدمات بند نہیں کیں اور اس سے ان کے گھروں سے باہر زندہ بچ جانے والوں اور ان لوگوں کے درمیان رابطے میں مدد ملی جو انہیں ملنے سے قاصر تھے۔"

ویڈیو کلپس میں اپنے گھروں کے باہر زندہ بچ جانے والوں اور ملبے تلے دبے دیگر لوگوں کے درمیان فون کالز دکھائی گئی ہیں جس سے امدادی ٹیموں کے لیے ان تک پہنچنا آسان ہو گیا۔ دوسروں نے مدد کے لیے کال کرنے کے لیے لائیو براڈکاسٹ فیچر کا استعمال کیا ہے۔

جمعہ کو دوپہر کے وقت ترک صدر نے اعتراف کیا کہ "زلزلے کا ردعمل اتنا تیز نہیں تھا جتنا ہم چاہتے تھے"۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک لاکھ چالیس ہزار افراد امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

صدر طیب ایردوآن نے کہا کہ زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 18,991 اور زخمیوں کی تعداد 76,000 تک پہنچ گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں