اصفہان حملے کے مجرموں کو گرفتار کرلیا، اسرائیلی کرائے کے فوجی ملوث: ایران

پیرس اور واشنگٹن کا تہران کی عدم استحکام کی سرگرمیوں اور بیلسٹک میزائل سسٹم کے خلاف بین الاقوامی ردعمل پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سرکاری ایرانی میڈیا نے کہا ہے کہ ایران کی سیکورٹی فورسز نے ملک کے وسط میں اصفہان شہر میں ایک فوجی مقام پر رواں ماہ ڈرون حملے کے اہم مجرموں کو گرفتار کر لیا ہے ۔ ایران نے کہا ہے کہ اس کارروائی میں اسرائیلی "کرائے کے فوجیوں" نے حصہ لیا تھا۔نیوز ایجنسی ’’ارنا‘‘ نے بتایا کہ یکم فروری کو اصفہان میں وزارت دفاع سے تعلق رکھنے والے ایک صنعتی مرکز کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش کے مرکزی مجرموں کی شناخت کر لی گئی اور انہیں گرفتار کر لیا گیا ۔ اب تک اس فعل میں اسرائیلی کرائے کے فوجیوں کا ملوث ہونا ثابت ہو چکا ہے۔

دوسری جانب ایران نے جمعہ کو ایک صحافی کو رہا کر دیا جسے پولیس حراست میں نوجوان خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد مہینوں پہلے شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

ایرانی حکام نے 16 ستمبر سے شروع اور اب تک جاری رہنے والے مظاہروں میں شرکت کرنے کی پاداش میں ہزاروں افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ اخبار ’’ شرق الاصلاحیہ‘‘ نے بتایا کہ "سیاسی کارکن اور صحافی حسین یزدی کو اصفہان شہر کی دستکرد جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ اخبار کی ایک سابق رپورٹ کے مطابق یزدی کو 5 دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا اور اسے ایک سال قید اور دو سال کی سفری پابندی کی سزا سنائی گئی تھی۔ یزدی "موبین 25 ‘‘ویب سائٹ اور ’’ایران ٹائمز ‘‘نیوز چینل کے ڈائریکٹر تھے۔

جمعرات کو تہران کی ایون جیل سے 7 خواتین کارکنوں اور صحافیوں کو رہا کر دیا گیا تھا۔رہا ہونے والوں میں سرگرم کارکن صبا کردفشاری بھی شامل ہیں جو 2019 سے اس وقت حراست میں ہیں جب اس نے نقاب پہننے کی پابندی کے خلاف مہم چلائی تھی۔ ان رہا ہونے والوں میں معروف فوٹوگرافر عالیہ متلب زادہ بھی ہیں جنہوں نے گزشتہ اپریل میں جیل میں اپنی آخری مدت شروع کی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ مظاہروں میں درجنوں سکیورٹی اہلکاروں سمیت سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دریں اثنا فرانسیسی وزارت خارجہ نے جمعہ کو بتایا کہ وزیر خارجہ کیتھرین کولونا نے اپنے امریکی ہم منصب انتھونی بلنکن کو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے لاحق خطرے کے بارے میں ایک ٹھوس عالمی ردعمل کی ضرورت سے آگاہ کیا ہے۔ وزارت نے کہا کہ کولونا اور بلنکن نے جمعرات کو ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران یوکرین اور ایران سمیت متعدد مسائل پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

وزیر خارجہ کیتھرین کولونا نے ایران کی عدم استحکام کی سرگرمیوں اور اس کے بڑھتے ہوئے بیلسٹک میزائل ہتھیاروں سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے خطرے پر اظہار خیال کیا اور کہا کہ اس خطرے کے خلاف بین الاقوامی ردعمل کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں وزراء نے ایران کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا جس نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ تہران اپنی جوہری ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں متضاد رویہ اپنائے ہوئے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں