امریکہ نے بین البراعظمی میزائل لانچ کردیا

چینی غبارہ مار گرائے جانے کے بعد اقدام کا مقصد جوہری دفاع کو محفوظ اور موثر ظاہر کرنا ہے: بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی سرزمین پر ایک چینی جاسوس غبارے کو مار گرائے جانے کے چند دن بعد امریکی فضائیہ نے جوہری تیاری کے مظاہرے میں بین البراعظمی میزائل لانچ کردیا۔ غیر مسلح ’’ آئی سی بی ایم ‘‘کیلیفورنیا سے لانچ کیا گیا۔

سرکاری بیان میں لانچ کو ایک "معمول کی سرگرمی" قرار دیا گیا ہے جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ امریکہ کا جوہری دفاع محفوظ، قابل اعتماد اور موثر ہے۔

52
52

ایئر فورس گلوبل سٹرائیک کمانڈ کے کمانڈر جنرل تھامس نے کہا کہ ٹیسٹ لانچ عالمی سطح پر ہمارے ڈیٹرنس مشن کے جوہر کو ظاہر کرتا ہے، اور ہماری قوم اور اتحادیوں کو یقین دلاتا ہے کہ ہمارے ہتھیار قابل اعتماد ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے پائلٹ ایک لمحے کے نوٹس پر پوری دنیا میں امن کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

امریکی کمانڈز نے کہا کہ میزائل نے مارشل جزائر میں کواجلین ایٹول تک تقریباً 4200 میل کا سفر طے کیا جس سے امریکی آئی سی بی ایم سسٹم کی "درستگی اور بھروسے" کا پتہ چل جاتا ہے۔

ٹیسٹ اینڈ ایویلیوایشن گروپ کے کمانڈر کرنل کرسٹوفر کروز نے کہا کہ یہ لانچ ہمارے سٹریٹجک ڈیٹرنس سسٹمز کی دہرائی جانے والی صلاحیت اور بھروسے کو ظاہر کرتا اور اتحادیوں کو ایک واضح یقین دہانی کا پیغام بھیجتا ہے۔

حکام نے بتایا کہ اس لانچ کی منصوبہ بندی کئی فضائیہ ایجنسیوں نے مہینوں پہلے کی تھی۔ پینٹاگون کے پریس سیکریٹری بریگیڈیئر جنرل پیٹرک رائیڈر نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ پچھلے ہفتے آخری غبارے کے امریکہ پہنچنے سے پہلے چینی نگرانی کے طریقوں پر عمل کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب ہم چینی غبارے کی نگرانی کے پروگرام کے پیمانے کے بارے میں مزید جان رہے ہیں جس کی کئی سالوں سے امریکی انٹیلی جنس اور پینٹاگون نگرانی کر رہے ہیں۔ اس صلاحیت کے بارے میں ہماری آگاہی اور سمجھ میں اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں