ایران مظاہرے

ایران:1979ءکےانقلاب کی سالگرہ پرہیکروں نے سرکاری ٹی وی کی کوریج روک دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران میں 1979ء میں برپاشدہ انقلاب کی 44 ویں سالگرہ کے موقع پرہفتہ کے روزحکومت مخالف ہیکروں نے صدر ابراہیم رئیسی کی ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والی براہ راست تقریرکو کچھ دیر کے لیے روک دیا ہے۔

رئیسی کی سخت گیرحکومت کواس وقت نوجوان مظاہرین کی جانب سے سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے اور وہ ان کی برطرفی کا مطالبہ کررہے ہیں۔انھوں نے اس تقریرمیں ’’دھوکے بازنوجوانوں‘‘سے اپیل کی کہ وہ توبہ کریں تاکہ انھیں ایران کے سپریم لیڈر کی طرف سے معاف کیاجاسکے۔

انھوں نے تہران کے وسیع وعریض آزادی چوک پر جمع ایک ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’اگریہ نوجوان توبہ کرتے ہیں توانھیں ایرانی عوام کھلی بانہوں سے گلے لگائیں گے‘‘۔

ٹیلی ویژن پران کی براہِ راست تقریرقریباً ایک منٹ کے لیے انٹرنیٹ پرروک دی گئی۔اس دوران میں ایرانی حکومت مخالف ہیکروں کے ایک گروپ کی سکرین پرایک لوگو نمودار ہوا جس کا نام’’عدلِ علی‘‘(جسٹس آف علی) ہے۔ ایک آواز’’اسلامی جمہوریہ کی موت‘‘ کے نعرے لگا رہی تھی۔

ایران میں گذشتہ سال ستمبر میں 22 سالہ مہساامینی کی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کے بعد سے ملک گیر مظاہرے جاری رہے ہیں۔سکیورٹی فورسز نے مظاہروں کے خلاف مہلک کریک ڈاؤن کیا ہے۔یہ احتجاجی تحریک 1979 کے انقلاب کے بعد سے اسلامی جمہوریہ کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی

انقلاب کی سالگرہ کے موقع پرعام معافی کے ایک حصے کے طور پر، ایرانی حکام نے جمعہ کوجیل میں قید باغی فرہاد میسامی اور ایرانی نژادفرانسیسی ماہر تعلیم فریبہ عادل خواہ کو رہا کردیا تھا۔گذشتہ اتوارکوسپریم لیڈرعلی خامنہ ای نے حکومت مخالف مظاہروں میں گرفتار کیے گئے قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا کا کہنا ہے کہ جمعہ تک سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 528 مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں۔ان میں 71 نابالغ بھی شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 70 سرکاری سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ 19,763 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ایرانی رہ نما اور سرکاری میڈیا گذشتہ کئی ہفتوں سے اپیل کررہا تھا کہ مظاہروں کے ردعمل میں یک جہتی کے اظہار کے طور پر ہفتہ کے روزہونے والی ریلیوں میں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کریں۔

سال گرہ کے موقع پرجمعہ کی رات سرکاری میڈیا نے حکومت کی سرپرستی میں ہونے والی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر آتش بازی دکھائی اور لوگ 'اللہ اکبر' کے نعرے لگا رہے تھے۔تاہم سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز پر بہت سے لوگوں کو’آمرمردہ باد‘اور ’اسلامی جمہوریہ مردہ باد‘ کے نعرے لگاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن نے ملک بھر میں حکومت کے زیراہتمام ریلیوں کی براہ راست فوٹیج نشر کی ہے۔ تہران میں مقامی ساختہ اینٹی بیلسٹک میزائل، ایک ڈرون، ایک آبدوز شکن کروزر اور دیگر فوجی سازوسامان کی نمائش کی گئی ہے۔

تہران کے آزادی چوک سے براہ راست ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تقریر میں صدر ابراہیم رئیسی نے مظاہرین کے دست خطی نعرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:’’لوگوں کواحساس ہوگیا ہے کہ دشمن کا مسئلہ عورت، زندگی یا آزادی نہیں بلکہ اس کے بجائے، وہ ہماری آزادی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

ان کی تقریر میں کئی مرتبہ ’’امریکا مردہ باد‘‘کے نعروں کی وجہ سے خلل پڑا تھا۔واضح رہے کہ ’’مرگ برامریکا‘‘ریاستی ریلیوں میں ہمیشہ ایک ٹریڈ مارک نعرہ ہوتا ہے۔ مجمع نے ’اسرائیل مردہ باد‘کے نعرے بھی لگائے۔ابراہیم رئیسی نے ’دشمنوں‘پرالزام عاید کیا کہ وہ 'بدترین قسم کی فحاشی اور ہم جنس پرستی ہے' کو فروغ دے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں