ترکیہ میں اجتماعی قبرستان، گمنام قبروں کی تصاویر اور نمبروں سے شناخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ میں زلزلے کی تباہ کن آفت کا شکار ہونے والے علاقے ھطائی میں بڑے پیمانے ہونے والی ہلاکتوں کے بعد مہلوکین کا اجتماعی قبرستان بنایا گیا ہے جس میں قبروں پر ان میں مدفون افراد کی لاشوں کے ناموں کے بجائے نمبر اور تصاویر لگائی گئی ہیں، تاہم ان قبروں پر لاشوں کے نام اور دیگر کوئی شناخت موجود نہیں۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے’ہاطائی‘ کے اس قبرستان کا دورہ کے موقع پر بنائی گئی ویڈیو رپورٹ میں بتایا ’’کہ قبرستان میں زلزلے سے جاں بحق ہونے والے سیکڑوں افراد کو دفن کیا گیا ہے۔‘‘

نامہ نگار کی طرف سے بنائی گئی ویڈیو فوٹیج میں سینکڑوں قبریں دکھائی دے رہی ہیں، جن پر ناموں کے بغیر صرف نمبر ہیں، کیونکہ بہت سے جاں بحق افراد کی لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی۔

جب کہ العربیہ کے نامہ نگار نے وضاحت کی ’’کہ ترکیہ کی امدادی ٹیمیں لاشوں کی تصویریں کھینچ رہی ہیں اور انہیں دفنانے سے پہلے ان پر نمبر لگا رہی ہیں، خاص طور پر جن کی شناخت نہیں ہو سکی ہے یا ابھی تک کسی نے دعویٰ نہیں کیا، انہیں گم نام قرار دے کر دفن کیا جا رہا ہے۔

یہ اقدام وبائی امراض کے پھیلنے کے خوف سے لاشوں کو اس طرح دفنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ اسپتالوں اور یہاں تک کہ کے کھیل کے میدانوں اور دیگر عوامی مقامات پر بھی ہزاروں لاشوں کے ڈھیر لگ جاتے ہیں مگر متاثرہ علاقوں میں فوت ہونے والوں کے لواحقین نہیں پہنچ پاتے۔

بہت سے شہری اپنے رشتہ داروں کو جاننے کے لیے ان سائٹس پر آتے ہیں، وہ قبرستان میں اپنے پیاروں کو ان کی تصاویر سے شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ھاطائی کے اجتماعی قبرستان ۔ العربیہ فوٹو
ھاطائی کے اجتماعی قبرستان ۔ العربیہ فوٹو

جب کہ امدادی کارکن اب بھی زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کر رہے ہیں یا زلزلے کے ملبے سے لاشیں نکال رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ زلزلہ متاثرین کی تعداد 40,000 سے تجاوز کر سکتی ہے کیونکہ شام اور ترکیہ دونوں ملکوں میں اب بھی زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ملبوں کے ڈھیر موجود ہیں اور امدادی کارکن ان تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں