تُرکیہ: زلزلے میں انتقال کرنے جانے والے سعودی نوجوان کے والد کے تاثرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ میں قیامت خیز زلزلے کے نتیجے میں فوت ہونے والوں میں سعودی عرب کے 17 سالہ حمزہ الصفوانی بھی شامل ہیں۔ حمزہ وطن واپس آنا چاہتے تھے جہاں حالات اور سرکاری کاغذات کی عدم تکمیل کی وجہ سے وہ نہ آ سکے، حمزہ ترکیہ کے شہر انطاکیہ میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں قیام پذیر تھے ،مگر ناگہانی موت نے ان کو آ لیا۔ وہ انطاکیہ کی ایک عمارت کے ملبے تلے دب کر جان کی بازی ہار گئے۔

سعودی عرب کی قطیف گورنری کے شہر صفوانی سے تعلق رکھنے والے حمزہ شہید کے والد مصطفیٰ الصفوانی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ حمزہ کو اپنے شناختی کاغذات کے حصول کے لیے وطن واپس آنا تھا مگر حالات نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ ترکیہ جانے سے قبل وہ شام میں قیام پذیر رہے اور ان کے پاس سعودی عرب کے کاغذات مکمل نہیں تھے"۔ انہوں نے کہا کہ حمزہ کی والدہ شامی تھیں اور وہ ان کے ساتھ رہ رہا تھا۔ شام میں ان کے گھر پر گولہ گرا جس کے نتیجے میں اس کی ماں کا انتقال ہو گیا۔

والد نے مزید کہا کہ "اس کے بعد میں نے اسے وطن واپس لانے کی کوشش کی اور اس کے سعودی عرب میں داخلے کے لیے تمام ضروری طریقہ کار اختیار کرنے کی کوشش کی۔ اس لیے میں نے اسے اپنے ماموں اور دادی کے ساتھ انطاکیا منتقل ہونے کو کہا۔ میں نے حمزہ سے کہا کہ وہ کاغذات کی تکمیل تک انطاکیہ میں اپنے رشتہ داروں کے پاس رہے۔

ان کا مزید کہنا تھا: ’’تقریباً ایک سال قبل میں نے وزارت داخلہ اور متعلقہ حکام کے ساتھ حمزہ کے تمام طریقہ کار مکمل کیا تھا لیکن تقدیر ہم پر غالب آ گئی۔‘‘

حمزہ کے والد نے بتایا کہ وہ آخری وقت تک سوشل میڈیا کے ذریعے بیٹے کےساتھ رابطے میں رہے۔ زلزلے کے بعد ملبے تلے دب جانے کے بعد اس کی موت کی تصدیق پرسوں نو بجے ہوئی۔ ہمیں بتایا گیا کہ حمزہ کی ملبے کے نیچے دب کر موت ہو گئی ہے۔ والد کا کہنا تھا کہ اب ہم اپنے بیٹے کے لیے دعائے مغفرت ہی کر سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں