ایران احتجاجیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے ردعمل میں میونخ سکیورٹی کانفرنس میں نظرانداز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمن شہرمیونخ میں منعقدہونے والی سالانہ سکیورٹی کانفرنس کے منتظمین نے ایران کی موجودہ سیاسی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی حکومت کواس سال کی تقریب میں مدعو ہی نہیں کیا ہے۔

کانفرنس کے منتظمین کی جانب سے بھیجی گئی ایک ای میل میں کہا گیا ہے کہ ایرانی سول سوسائٹی کے نمائندوں کوحکومت کے بجائے شرکت کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔اس فورم پردنیا بھر کے خارجہ امور کے ماہرین اور دفاعی حکام کواکٹھا کرتے ہیں اوراس کا آغاز17 فروری کو ہوگا۔

منتظمین کایہ فیصلہ ایران میں گذشتہ کئی ماہ سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کو کچلنے کے لیے طاقت کے مہلک استعمال اور سزائے موت کے بعد سامنے آیا ہے۔ایران میں گذشتہ ستمبر میں 22 سالہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن اورایران کی جانب سے یوکرین پرحملے کے لیے روس کو فوجی ڈرون مہیّا کرنے کے ردعمل میں تہران کے خلاف گذشتہ کئی ماہ سے امریکا اور یورپی یونین کی پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری مذاکرات مؤثرطورپرمعطل کردیے گئے ہیں۔

روس کوبھی یوکرین پر حملے کی وجہ سے اس سال کی میونخ سکیورٹی کانفرنس سے باہر رکھا گیا ہے۔ اس کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق ایران نے 2009 سے کانفرنس میں شرکت کے لیے ایک سینیرعہدہ دارکوبھیجا ہے، سوائے 2011-12 کے سال جب ملک پرامریکا اوریورپی یونین نے پابندیاں عاید کی تھیں۔نیز2021 میں کووڈ-19 کے وبائی مرض کے دوران میں اس نے کانفرنس میں شرکت نہیں کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں