سعودی عرب:ماضی میں پابندی کا شکارویلنٹائن ڈے اب جوڑوں اورتنہاافراد کامرکزِتوجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں ویلنٹائن ڈے سے قبل پھولوں کی دکانیں اورریستوراں جوڑوں اور تنہا افراد کو خوب صورت گل دستوں اورخصوصی تیارکردہ مینو کے ساتھ اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔

سات سال پہلے، محبت کرنے والوں کواپنے تحائف کی منصوبہ بندی ہفتوں پہلے کرناپڑتی تھی تاکہ وہ نیکی کے فروغ اور برائی کی روک تھام کی کمیٹی کے ہاتھوں پکڑے جانے سے بچ سکیں۔

کمیٹی نے ماضی میں سُرخ گلاب کی فروخت پر پابندی عاید کردی تھی اور دکانوں کو 14 فروری تاریخ اور اس سے پہلے سُرخ رنگ کی اشیاء کی نمائش سے روک دیا تھا۔

ماضی میں گل دستے اوردل کش اشیاء خفیہ طورپرحیرت انگیز طورپرمہنگے داموں ان جوڑوں کو فروخت کی جاتی تھیں جو قیمت ادا کرنے کوتیارہوتے تھے۔لیکن چونکہ مملکت معیارِزندگی کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کانفاذ جاری رکھے ہوئے ہے،اب شہری اوررہائشی ہر سال زیادہ سے زیادہ عوامی طور پرجشن منارہے ہیں۔

ایک شہری یوسف موسیٰ نے العربیہ کو بتایا کہ ’’میری بیوی اور میری شادی کو دس سال ہوچکے ہیں۔ ہم گھر پر ویلنٹائن ڈے مناتے تھے اور ایک ہفتہ پہلے ایک دوسرے کو چھوٹے چھوٹے تحائف خریدکردیتے تھے۔ میں پھولوں کا آرڈر دیتا تھا، جن کی قیمت کئی دن پہلے دُگنا ہو چکی ہوتی تھی‘‘۔

’’مگر اس سال، ہم ایک ساتھ ایک ریستوراں میں اچھےعشائیے سے لطف اندوزہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔عوامی سطح پراپنی محبت کا اظہار کرنا اچھا لگتاہے‘‘۔ان کا کہنا تھا۔

ویلنٹائن ڈے کی خصوصی تقاریب

الریاض میں یونانی ریستوراں میراکی نے جوڑوں کو 'پینیلوپ اور اوڈیسیئس کی محبت کی کہانی سے متاثر ہو کر رومانوی ڈنر پیش کرنے کا اہتمام کیا ہے۔

جدہ میں عالمی شہرت یافتہ جاپانی ریستوراں نوبو ایک لائیو ڈی جے کی میزبانی کرے گا جس میں ان مہمانوں کے لیے موسیقی کا اہتمام کیا جائے گاجو خصوصی طور پر تیار کردہ مینو سے کھانا کھانا چاہتے ہیں۔

مینا خطے میں آن لائن پھولوں اور تحائف کی ترسیل کی منزل فلوارڈ کے لیے ویلنٹائن ڈے سال کا سب سے بڑا دن ہوتاہے۔

گذشتہ سال کمپنی کو مملکت میں ایک صارف کی جانب سے سب سے مہنگا آرڈر موصول ہوا تھا جو اس موقع پر پھولوں اور دیگر لوازمات کا 3,000 ڈالر کا بنڈل تحفے میں دینا چاہتا تھا۔

ہر سال ویلنٹائن ڈے کے موقع پر فروخت میں دیگر دنوں اور مواقع کے مقابلے میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے۔ فلوارڈ کے سی ای او اور چیئرمین عبدالعزیز الجوانی نے العربیہ کو بتایا کہ ’’ہر سال ہم اس دن کی بڑھتی ہوئی طلب کو دیکھ رہے ہیں اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس خاص لمحے کا جشن منا رہے ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ لوگوں کا رویہ اور طرز عمل پہلے سے موجود تھا لیکن اب انھوں نے نجی طور پر کام کرنے کے بجائے عوامی طور پر اس پر عمل کرنا شروع کردیا ہے‘‘۔

پابندیوں کی کمی کا مطلب ہے کہ جوڑے اور تنہا افراد دونوں کواب محبت کا دن کھلے عام مناسکتے ہیں اورانھیں اب ایسا چوری چھپے نہیں کرنا پڑے گا۔

رانیاحسن نے العربیہ کو بتایا کہ ’’میں اور میرے دوستوں کا گروپ دفتر میں ایک دوسرے کو گلاب اور چاکلیٹ دیں گے۔یہ اس دن ایک دوسرے کو محبت دکھانے کا ایک خوبصورت طریقہ ہے‘‘۔

الریاض میں پھولوں کی دکان لٹل فلورا کے جنرل مینجرسونیل نے ایک انٹرویو میں کہا کہ گلدستہ کارڈ لکھتے وقت دو بارسوچے بغیر لوگ اپنے جذبات کا زیادہ اظہار کرتے ہیں۔ماضی میں، وہ تین، چارروزپہلے آتے تھے اور آرڈردے کر چلے جاتے تھے۔ وہ کارڈز میں بہت زیادہ جذبات نہیں لکھتے تھے ، لیکن اب لوگ اپنے جذبات کا اشتراک کرنے اور انہیں لکھنے کو تیار ہیں۔ وہ خفیہ طور پر آنے یا فوری، گم نام ٹیکسٹ میسج بھیجنے کے بجائے براہ راست ہماری ویب سائٹ کے ذریعے آرڈرکرتے ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ان کے پاس بڑی تعداد میں آرڈر تو ہمیشہ سے آتے تھے لیکن اب لوگوں میں زیادہ کھلا پن ہے اور طرح کا ہم نے پہلے کبھی کوئی قابل ذکراضافہ نہیں دیکھا۔اب لوگ آتے ہیں اور براہ راست اپنی بیویوں یا گرل فرینڈ کے لیے آرڈر دیتے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں