ہالینڈ میں انٹرنیشنل ڈائیونگ میں طلائی تمغہ لینے والے سعودی بچے کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بچوں کی کیٹگری میں سعودی ڈائیونگ ٹیم کے کھلاڑی ایاد عویس نے نیدرلینڈز میں ’’ایندھون انٹرنیشنل چیمپئن شپ ‘‘ میں 2 سے 6 فروری کے دوران 3 میٹر سیڑھی کے مقابلہ میں طلائی تمغہ جیت لیا۔ اس مقابلے میں 25 ٹیمیں شرکت کر رہی تھیں۔

ایاد کے والد نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ میں سعودی قومی ٹیم کا سابق کھلاڑی تھا اور مجھے خلیجی، عرب اور بین الاقوامی سطح پر کئی مقابلوں میں حصہ لینے کا تجربہ ہے۔ اس لیے میں نے اس کی پیروی کی اور اپنے بیٹے ایاد کو تیار کیا ۔ اسے گھر پر زمینی مشقوں کی تربیت دی تاکہ اسے بہتر اور الگ ڈائیونگ کا مظاہرہ کرنے میں مدد ملے۔ یہی وجہ ہے وہ کھیل میں تیزی سے ترقی کرتا گیا۔ اسی طرح اس کی ماں نے کھانے اور جلد سونے کے معاملے میں اس کی مدد کی۔ ڈائیونگ گیم کے سپروائزر عبداللہ عسیری نے تعلیم ک ساتھ ساتھ اس کی تربیتی سیشن میں بڑا کردار ادا کیا۔

ایاد عویس
ایاد عویس

انہوں نے مزید کہا کہ یہ فتح سعودی سوئمنگ فیڈریشن اور کوچز کی محنت، لگن اور مسلسل فالو اپ کے باعث ملی ہے۔ ایک سابق بین الاقوامی کھلاڑی ہونے کے ناطے میرے پاس تجربہ ہے اور میرے پاس جدید ٹیموں کے لیے درخواستوں کے پروگرام کا تجربہ ہے تاکہ وہ ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا میں عالمی ڈائیونگ کے اپنے تجربہ کو کوچنگ کے ذریعہ فائدہ مند بنانا چاہوں گا۔

چیمپئن ایاد عویس کے والد نے مزید کہا کہ اب ہماری سب سے اہم خواہش آئندہ خلیجی چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل حاصل کرنا ہے پھر ویسٹ ایشین چیمپئن شپ اور ایشین بدھسٹ چیمپئن شپ میں شرکت کرنا اور کوالیفائنگ لیول پر پہنچنا اور مطلوبہ نمبر حاصل کرنے کی صورت میں اولمپکس میں شرکت کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی سوئمنگ فیڈریشن وزارت کھیل کی چھتری کے تحت مطلوبہ ہدف تک پہنچنے کے لیے تیار کیے گئے منصوبوں، حکمت عملیوں اور پروگراموں کے مطابق ہے۔ فیڈریشن سعودی عرب کے ویژن کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر چل رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں