ترکیہ زلزلہ

ترک وزیرخارجہ کی زلزلہ متاثرین کے لیے فوری امدادی سرگرمیوں پرسعودی عرب کی تعریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترک وزیرخارجہ مولودچاوش اوغلو نے سعودی عرب کی امدادی تنظیموں کے ایک وفد سے ملاقات کی ہے جو ترکیہ اور شام میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شاہ سلمان انسانی امداد اور ریلیف مرکز،سعودی ہلال احمرکے نمایندوں اور چاوش اوغلو کے درمیان یہ ملاقات ترک شہرحاتائے میں ہوئی ہے۔ترک وزیرخارجہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے دورے پر تھے۔

ایس پی اے کے مطابق ترک وزیرخارجہ نے زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے سعودی عرب کی امدادی ٹیموں کے فوری ردعمل کو سراہا اوراس پرمملکت کا شکریہ ادا کیا۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ مارٹن گریفتھس نے زلزلے کو خطے میں 100 سال کی بدترین قدرتی آفت قرار دیا ہے جس کے نتیجے میں دونوں ممالک میں قریباً 34 ہزاراموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔

اتوار کے روزگریفتھس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے خیال میں اموات کی تعداد دُگنا یا اس سے زیادہ ہوکر 50 ہزار سے تجاوز کر جائے گی۔

ان کاکہنا تھا کہ ’’ہم نے ہلاک شدگان کی تعداد شمار کرنا شروع نہیں کی۔زلزلے نے متاثرہ علاقوں پر تباہ کن اثرات چھوڑے ہیں اور ہزاروں امدادی کارکن سرد موسم کے باوجود زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں‘‘۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق زلزلے سے ترکیہ اور شام میں قریباً دوکروڑ60 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔اس نے متاثرہ افراد کی طبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے چارکروڑ28 لاکھ ڈالرکی امداد کی اپیل کی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ جنگ زدہ شام میں صورت حال زیادہ سنگین ہے، جہاں ایک اندازے کے مطابق اب 53 لاکھ افراد بے گھرہوسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں