ایران حوثی ملیشیا کو سعودی عرب پر حملوں کے لیے میزائل اسمگل کر رہا ہے: برطانیہ

ایران کی جانب سے حوثیوں کو جنگی ہتھیاروں کی فراہمی کے بارے میں اقوام متحدہ کو شواہد فراہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران سے برطانوی بحریہ کے قبضے میں لیے گئے ہتھیاروں کو اقوام متحدہ کے سامنے پیش کیا ہے جو کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی طرف سے سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کا ثبوت ہے۔

ریڈیو وائس آف امریکا نے برطانوی بیان کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ برطانوی حکومت نے 2022 کے شروع میں جنوبی ایران میں بین الاقوامی پانیوں میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل اور کروز میزائل انجن سمیت دو ایرانی ہتھیاروں کے قبضے کا حوالہ دیا اور اسے سلامتی کونسل کی سنہ 2015ء کو منظور کردہ قراردادوں 2231 اور 2140 کی خلاف ورزی قرار دیا۔

بیان کے مطابق قبضے میں لیے گئے اسلحے میں ایک ڈرون بھی تھے۔ برطانوی وزارت دفاع کی جانب سے اس کی اندرونی یادداشت کو ڈی کوڈ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس نے ایرانی فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر سے 22 آزمائشی پروازیں کیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاسداران انقلاب حوثیوں کو اسلحہ کی فراہمی کا ذمہ دار ہے۔ اور یہ ہتھیار حوثیوں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر حملوں میں استعمال ہوئے۔

اپنے بیان میں برطانیہ نے کہا کہ مذکورہ ڈرون زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں اور ایرانی زمینی حملے کے لیے کروز میزائل کے پرزوں کی کھیپ کا حصہ تھا۔ شواہد تہران اور میزائل سسٹم کی اسمگلنگ کے درمیان براہ راست تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اس بیان کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ یہ ہتھیار اقوام متحدہ کے ان معائنہ کاروں کو پیش کیے گئے جو یمن میں جنگ اور ایران کی جوہری سرگرمیوں کی پیروی کے ذمہ دار ہیں۔

اس حوالے سے برطانوی وزیر دفاع بین ویلس نے کہا کہ ان کا ملک بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی اور عالمی امن کے لیے خطرہ بننے والی ایران کی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ برائے مشرق وسطیٰ لارڈ طارق احمد نے کہا کہ ایران کی اندھا دھند توسیع پسندی اور عدم استحکام پیدا کرنے والا رویہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے آ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے حوثیوں کی حمایت اور اس گروہ پر عائد ہتھیاروں کی پابندی کی مسلسل خلاف ورزی تنازعات کے پھیلاؤ کا سبب بنی اور اس نے یمن میں امن کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کو کمزور کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں