اوپیک پلس

اوپیک پلس کا تیل پیداوارکاسمجھوتا پورا سال برقرار رہے گا:سعودی وزیرتوانائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے واضح کیا ہے کہ اوپیک پلس اتحاد 2022ء کے آخر میں تیل کی یومیہ پیداوار کے طے شدہ سمجھوتے کورواں تمام سال برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اکتوبر 2022ء میں ،اوپیک اوراس کے شراکت دارروس کی قیادت میں غیراوپیک ممالک نے آنے والے پورے سال کے لیے مقررہ پیداوار کے اہداف تفویض کرنے کا غیرمعمولی اقدام کیا تھا۔اوپیک کے اہم عہدے داروں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ 2023 کے دوران میں اس کوٹے کو برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس ضمن میں شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کا بیان اب تک کا سب سے زیادہ واضح اشارہ ہے۔

شہزادہ عبدالعزیز نے الریاض میں ایک انٹرویو میں انرجی ایسپیکٹس لمیٹڈ کی چیف آئل اینالسٹ امریتا سین کو بتایا کہ ’’اکتوبر میں ہم نے جوسمجھوتا طے کیا تھا،وہ باقی سال کے لیے برقرار رہے گا کیونکہ آپ کو اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ مارکیٹ میں مثبت اشاروں کے اُبھرنے کو برقرار رکھا جاسکے‘‘۔

انرجی ایسپیکٹس کی ویب سائٹ پرشائع ہونے والے انٹرویو سے قبل شہزادہ عبدالعزیز پہلے ہی اشارہ دے چکے تھے کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کی جانب سے مداخلت کی حد بہت زیادہ ہوگی۔

انھوں نے رواں ماہ کے اوائل میں الریاض میں کہا تھا کہ ’’خام تیل کی پیداوار کی ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے جب میں اسے دیکھوں گا تو اس پریقین کروں گا اور پھر کارروائی کروں گا‘‘۔

اوپیک کے ایک اوراہم ملک متحدہ عرب امارات نے بھی رواں ہفتے یہ تجویز پیش کی تھی کہ گروپ کو اپنا راستہ تبدیل کرنے کی بہت کم ضرورت ہو گی۔ اماراتی وزیرتوانائی سہیل المزروئی نے دبئی میں بلومبرگ ٹی وی کو بتایا کہ عالمی سطح پر تیل کی رسد اورطلب یکساں طورپرمماثلت رکھتی ہے، ریکارڈ ٹھیک ہے اور خام تیل کی قیمتوں کی سطح "توازن کا ثبوت" ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں