’’یواین سربراہی گوٹیرس نہیں میرے دادا کو دیں‘‘ شامی بچے نے ہلچل مچا دی

’’دیر الزور کے قبائل نے شام میں 76 اور اقوام متحدہ نے صرف 15 امدادی ٹرک بھیجے‘‘، وائرل تصویر میں بچے نے بینر اٹھا رکھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

پیر 6 فروری کو جنوبی ترکیہ اور شمالی شام میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں شمال مغربی شام میں بھی زبردست تباہی آئی، اسی دوران شامی اپوزیشن کے علاقوں میں امداد کی کمی کے پیش نظر دیر الزور کے درجنوں قبائل اپنے بھائیوں کے لیے امداد کے لیے پہنچ گئے۔

ا سی حوالے سے ایک شامی بچے کی تصویر ذرائع ابلاع کی ویب سائٹس پر گردش کر رہی ہے جس نے ہزاروں لوگوں کی توجہ اور ستائش حاصل کرلی ہے۔ اس تصویر میں چھوٹے بچے کو ایک بینر اٹھائے ہوئے دکھایا گیا تھا جس میں لکھا تھا کہ دیر الزور کے قبیلوں نے ملک کے شمال مغرب میں 76 امدادی ٹرک بھیجے جبکہ دوسری طرف اقوام متحدہ نے صرف 15 ٹرک بھیجے!

اس بچے نے، جس کا نام نہیں بتایا گیا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے دادا ’’حسین ‘‘کو گوٹریس کی جگہ عالمی تنظیم کا سیکرٹری جنرل منتخب کرنے کا مطالبہ بھی کردیا۔ گویا بچے نے اقوام متحدہ کی جانب سے شمالی شام میں مصیبت زدہ افراد کی مناسب مدد کرنے میں ناکامی پر کڑی تنقید کی ہے۔

یہ "بے ساختہ" مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک امدادی قافلہ زلزلے سے متاثرہ شمال مغربی شام میں پہنچا، یہ قافلہ مشرقی صوبے دیر الزور سے آرہا تھا، یہ فافلہ جنگ کے نتیجے میں 11 سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی فرنٹ لائن کو عبور کر کے آیا تھا۔ رائٹرز کے مطابق بدھ کی رات پہنچنے والے ان ٹرکوں کے قافلے میں کمبل، کھانے پینے کا سامان، طبی سامان اور خیمے شامل تھے۔ یہ امدادی سامان کردوں کی زیر قیادت سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے زیر کنٹرول علاقے سے آیا تھا۔ قافلے کے منتظمین میں سے ایک حمود صالح نے کہا کہ مزید امداد جمع کر لی گئی ہے اور ملک کے شمال میں بلا تفریق تقسیم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ آخری مہم نہیں ہے۔

قابل ذکر ہے کہ خانہ جنگی کے دوران دیر الزور سے ملک کے شمال مغرب میں بے گھر ہونے والے بہت سے شامی باشندوں کا تعلق ان عرب قبائل سے ہے جن کا خطے میں بڑا اثر و رسوخ ہے۔

جنگ سے پیدا ہونے والی دشمنی نے اس سے قبل شمال مغربی شام میں فرنٹ لائن پر امداد بھیجنے کی کم از کم دو کوششوں میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ مشرقی اور شمال مشرقی علاقوں میں کردوں کی قیادت میں حکام نے پچھلے ہفتے حزب اختلاف کے زیر قبضہ شمال مغرب میں بھیجے گئے قافلے کو واپس کر دیا۔ دونوں اطراف کے ذرائع نے ناکامی کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرنے کی کوشش کی۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور روابط نے اطلاع دی ہے کہ شمال مغربی شام میں آنے والے زلزلے میں 4,400 سے زیادہ افراد ہلاک اور 8,600 زخمی ہوئے ہیں۔ شامی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں ہلاکتوں کی تعداد 1414 تک پہنچ گئی۔’’اقوام متحدہ کی سربراہی گوٹیرس نہیں میرے دادا کو دیں‘‘ شامی بچے کے مطالبے سے انٹرنیٹ پر ہلچل


’’دیر الزور کے قبائل نے شام میں 76 اور اقوام متحدہ نے صرف 15 امدادی ٹرک بھیجے‘‘، وائرل تصویر میں بچے نے بینر اٹھا رکھا

دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

پیر 6 فروری کو جنوبی ترکیہ اور شمالی شام میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں شمال مغربی شام میں بھی زبردست تباہی آئی، اسی دوران شامی اپوزیشن کے علاقوں میں امداد کی کمی کے پیش نظر دیر الزور کے درجنوں قبائل اپنے بھائیوں کے لیے امداد کے لیے پہنچ گئے۔

ا سی حوالے سے ایک شامی بچے کی تصویر ذرائع ابلاع کی ویب سائٹس پر گردش کر رہی ہے جس نے ہزاروں لوگوں کی توجہ اور ستائش حاصل کرلی ہے۔ اس تصویر میں چھوٹے بچے کو ایک بینر اٹھائے ہوئے دکھایا گیا تھا جس میں لکھا تھا کہ دیر الزور کے قبیلوں نے ملک کے شمال مغرب میں 76 امدادی ٹرک بھیجے جبکہ دوسری طرف اقوام متحدہ نے صرف 15 ٹرک بھیجے!

اس بچے نے، جس کا نام نہیں بتایا گیا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے دادا ’’حسین ‘‘کو گوٹریس کی جگہ عالمی تنظیم کا سیکرٹری جنرل منتخب کرنے کا مطالبہ بھی کردیا۔ گویا بچے نے اقوام متحدہ کی جانب سے شمالی شام میں مصیبت زدہ افراد کی مناسب مدد کرنے میں ناکامی پر کڑی تنقید کی ہے۔

یہ "بے ساختہ" مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک امدادی قافلہ زلزلے سے متاثرہ شمال مغربی شام میں پہنچا، یہ قافلہ مشرقی صوبے دیر الزور سے آرہا تھا، یہ فافلہ جنگ کے نتیجے میں 11 سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی فرنٹ لائن کو عبور کر کے آیا تھا۔ رائٹرز کے مطابق بدھ کی رات پہنچنے والے ان ٹرکوں کے قافلے میں کمبل، کھانے پینے کا سامان، طبی سامان اور خیمے شامل تھے۔ یہ امدادی سامان کردوں کی زیر قیادت سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے زیر کنٹرول علاقے سے آیا تھا۔ قافلے کے منتظمین میں سے ایک حمود صالح نے کہا کہ مزید امداد جمع کر لی گئی ہے اور ملک کے شمال میں بلا تفریق تقسیم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ آخری مہم نہیں ہے۔

قابل ذکر ہے کہ خانہ جنگی کے دوران دیر الزور سے ملک کے شمال مغرب میں بے گھر ہونے والے بہت سے شامی باشندوں کا تعلق ان عرب قبائل سے ہے جن کا خطے میں بڑا اثر و رسوخ ہے۔

جنگ سے پیدا ہونے والی دشمنی نے اس سے قبل شمال مغربی شام میں فرنٹ لائن پر امداد بھیجنے کی کم از کم دو کوششوں میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ مشرقی اور شمال مشرقی علاقوں میں کردوں کی قیادت میں حکام نے پچھلے ہفتے حزب اختلاف کے زیر قبضہ شمال مغرب میں بھیجے گئے قافلے کو واپس کر دیا۔ دونوں اطراف کے ذرائع نے ناکامی کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرنے کی کوشش کی۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور روابط نے اطلاع دی ہے کہ شمال مغربی شام میں آنے والے زلزلے میں 4,400 سے زیادہ افراد ہلاک اور 8,600 زخمی ہوئے ہیں۔ شامی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں ہلاکتوں کی تعداد 1414 تک پہنچ گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں