391 امدادی ٹرک شام میں داخل ، بشار الاسد مزید کراسنگز کھولنے پر راضی

بھیجی گئی امداد زلزلہ سے پہلے بھی شام کے لیے دستیاب تھی: ڈبلیو ایچ او‎‎

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے آج جمعرات کو بتایا ہے کہ زلزلے کے بعد سے 391 امدادی ٹرک سرحدی گزرگاہوں سے شمال مغربی شام میں داخل ہوئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر نے شام کے صدر بشار الاسد کی جانب سے مزید سرحدی گزرگاہیں کھولنے کی منظوری کا اعلان کیا اور ساتھ شام کے لیے عطیات کو دوگنا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ کراسنگ کے ذریعے شام میں داخل ہونے والی امداد زلزلے سے پہلے سے موجود تھی۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر نے انکشاف کیا کہ شام میں زلزلے سے بچ جانے والے افراد پناہ گاہ، خوراک یا صاف پانی کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کا پہلا امدادی قافلہ ترکیہ اور شمالی شام میں حزب اختلاف کے دھڑوں کے زیر کنٹرول علاقوں کے درمیان باب السلامہ سرحدی گزرگاہ سے داخل ہوا۔

’’العربیہ‘‘ کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ امدادی ٹرک باب الھوی کراسنگ کے ذریعے شمال مغربی شام میں داخل ہوتے رہے ہیں کیونکہ اقوام متحدہ کے 22 امدادی ٹرک آج جمعرات کو باب الھوی کراسنگ کے ذریعے داخل ہوئے ۔ اس طرح ان کی کل تعداد 106 ہوگئی۔ دریں اثنا ترکیہ اور شام میں ملبہ ہٹانے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دونوں ملکوں میں یہ تعداد 39 ہزار سے زائد افراد تک پہنچ گئی ہے۔ امدادی قافلہ 11 ٹرکوں پر مشتمل ہے جو انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے فراہم کیے ہیں۔ امداد میں شیلٹر کٹس، کمبل اور قالین شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل گوٹیرس نے شام میں زلزلے کے متاثرین کی مدد کے لیے 3 ماہ کے عرصے میں تقریباً 400 ملین ڈالر جمع کرنے کی ہنگامی اپیل کی تھی۔ گوٹیرس نے مزید کہا کہ ہم اس طر ح کی مدد کی اپیل اگلے مرحلہ میں ترکیہ کے لیے بھی کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا اقوام متحدہ نے فوری ذمہ داریوں کے فنڈ سے زلزلے کے بعد 50 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی لیکن ضروریات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں