ترکیہ زلزلہ: 11 دن بعد ملبے تلے سے نکالے گئے ترک شخص کی اپنی بیٹی سے پہلی ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چھ فروری کو ترکی اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے نے کئی انسانی المیوں کو جنم دیا ہے۔ جہاں ہزاروں افراد ہلاک، زخمی اور بے گھر ہوئے وہیں کچھ لوگ تاعمر اپنے پیاروں کو کھو دینے کی تکلیف میں مبتلا رہیں گے۔

اس غم ناک فضا میں کسی شخص کے ہزاروں من وزنی ملبے سے زندہ نکل آنے پر لوگوں اور ریسکیو ٹیموں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ ہے ترکیہ کے جنوب میں واقع صوبے ہاتائے میں ملبے تلے 261 گھنٹے گزارنے کے بعد زندہ نکالے جانے والے ترک شہری مصطفیٰ آوچی کا، جب وہ پہلی بار اپنی نو مولود بیٹی سے ملے، جو زلزلے کی رات اس ہسپتال میں پیدا ہوئی تھی جہاں اس وقت وہ زیر علاج ہیں۔

گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران، سوشل میڈیا پر وائرل ایک جذباتی ویڈیو میں مصطفیٰ کو ان کی اہلیہ اور بیٹی سے ملاقات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اسپتال میں زیر علاج مصطفی نے اپنی ننھی بچی کو پہلی بار گلے لگا کر بوسہ دیا۔

ترکیہ اور شام میں زلزلے سے 45000 افراد ہلاک، ہزاروں زخمی اور لاکھوں افراد شدید سردی میں بے گھر ہو چکے ہیں۔

اس زلزلے کو، جس کی شدت 7.8 تھی تاریخ کی بدترین قدرتی آفت قرار دیا گیا ہے۔ وا‌ضح رہے کہ ترکیہ اور شام نے بعض علاقوں میں تلاش اور ریسکیو کارروائیاں روک دی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں