تُونس:ٹریڈ یونین کا معاشی بحران اورعہدہ دارکی گرفتاری کے خلاف احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تُونس کی ٹریڈ یونین کے ہزاروں کارکنوں نے ملک بھر میں بدترین معاشی بحران اور اپنے ایک اعلیٰ عہدہ دار کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

تُونسی حکومت اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بیل آؤٹ قرض کے لیے بات چیت کررہی ہے۔اس کے بارے میں طاقتور یو جی ٹی ٹی ورکرز فیڈریشن نے خبردارکیا ہے کہ اس کے لیے کفایت شعاری کے تکلیف دہ اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

ملک کے دوسرے بڑے شہرصفاقس میں ہفتے کے روز سب سے بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی ہے ، وہاں مظاہرین نے "تُونس برائے فروخت نہیں ہے!" اور "زرتلافی ختم کرنے کے لیے نہیں!" کے نعرے لگائے۔

کچھ لوگوں نے روزمرہ بڑھتے ہوئے اخراجات پر احتجاج کی علامت کے طور پر جسم کے ساتھ روٹیاں لگا رکھی تھیں۔انھوں نے یو جی ٹی ٹی کے سینیرعہدہ دارانیس کعبی کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔

انھیں31 جنوری کو ٹول بیریئرمزدوروں کی ہڑتال کے بعد گرفتارکرلیا گیا تھا۔ یونین نے ان کی گرفتاری کوایک دھچکا اوراپنے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ کعبی کو 23 فروری سے مقدمے کا سامنا ہے۔ان پر 'سرکاری حکام کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنے عہدے کو ناجائزطورپراستعمال' کرنے کا الزام ہے۔

یو جی ٹی ٹی کے نائب سربراہ عثمان جلولی نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک کومعاشی اور سماجی اصلاحات کی راہ پرگامزن کرنے میں ناکام رہی ہے۔البتہ وہ صرف یونین پر حملہ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

حالیہ مظاہروں سے ڈیڑھ سال قبل تُونس کے صدر قیس سعید نے ملک کی منتخب حکومت کو برطرف کر دیا تھا اورتمام اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔اس اقدام کے بعد سےان پر بارباریہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ ملک کو آمریت کی طرف واپس گھسیٹ رہے ہیں۔

جلولی نے کہا:’’آج یونین کے کسی بھی رکن کو صرف اپنی رائے کا اظہار کرنے پربرخاست کیا جا سکتا ہے‘‘۔

یورپی ٹریڈ یونین کنفیڈریشن کی سربراہ ایستھرلنچ نے بھی صفاقس میں ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے ’’یورپ بھر میں ساڑھے چار کروڑ مزدوروں کی جانب سے یک جہتی‘‘کا پیغام دیا ہے۔انھوں نے کہا:’’ہم حکومتوں سے کہتے ہیں،ہماری ٹریڈ یونینوں کو چھوڑ دو،ہمارے رہ نماؤں کو آزاد کرو‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ حکومت کو تُونس کو درپیش مسائل کے حل کے لیے یو جی ٹی ٹی کے ساتھ مل بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یو جی ٹی ٹی ان مزدوروں کی نمائندگی کرتی ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

تُونس کی معیشت بھاری مقروض اور درآمدات پر منحصر ہے، وہ ایک طویل عرصے سے جاری معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے اوریہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے بدتر ہو گیا ہے، جہاں چینی سے لے کر پیٹرول تک بنیادی اشیاء کی باقاعدہ قلت ہوچکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں