ہیکرز ایف بی آئی کے سب سے بڑے دفتر میں بھی گھس گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حالیہ بڑھتے ہوئے ہیکر حملوں کے بارے میں امریکی انتباہات کے درمیان فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے نیویارک آفس میں ایک پراسرار سائبر اٹیک کردیا گیا ہے۔ روس اور چین کے ساتھ مغربی تناؤ کے درمیان ہیکرز نے ایف بی آئی کے سب سے بڑے دفتر کے کمپیوٹرز کو نشانہ بنا ڈالا ہے۔ حکام نے اطلاع دی کہ دفتر سائبر اٹیک پر قابو پانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ حملے سے گزشتہ دنوں کمپیوٹر نیٹ ورک کا ایک حصہ متاثر ہوا ہے۔

سی این این کے مطابق اس معاملے سے واقف دو ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آئی حکام کا خیال ہے کہ یہ واقعہ بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر اور نیٹ ورکس کی تحقیقات میں استعمال ہونے والے کمپیوٹر سسٹم سے متعلق ہے۔ ایف بی آئی نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس واقعہ سے آگاہ ہے اور اضافی معلومات حاصل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ایف بی آئی نے اپنے بیان میں زور دیا کہ یہ واقعہ ایک الگ تھلگ واقعہ ہے۔ سائبر اٹیک کی تفصیلات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

واضح رہے دفتر نے خود 2021 کے نومبر میں ایک ہیکنگ کا واقعہ بھی دیکھا تھا جس میں ایک پارٹی نے ایف بی آئی کے ذریعے استعمال ہونے والے ای میل ایڈریس کو امریکہ میں سرکاری اور مقامی قانون نافذ کرنے والے حکام سے بات چیت کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔ ہزاروں تنظیموں کو جعلی ای میلز بھیجی گئی تھیں اور ان ای میلز کے ذریعے بھیجے گئے مبینہ خط میں بتایا گیا تھا کہ کوئی خطرہ ہے۔ اس وقت ایف بی آئی نے مشتبہ شخص کا اعلان کیے بغیر اس واقعے کو سافٹ ویئر کی کمزوری سے منسوب کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں