جنوری میں بھارت نے ریکارڈ روسی تیل درآمد کیا: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تجارتی ذرائع کے اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان کی روسی تیل کی درآمدات جنوری میں 1.4 ملین بیرل یومیہ کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں، جو دسمبر کے مقابلے 9.2 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے بعد ماسکو نئی دہلی کو عراق اور سعودی عرب سے ماہانہ بنیادوں پر سب سے زیادہ تیل فروخت کرنے والا ملک بن گیا ہے۔

اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ ماہ روس کے تیل کا 50 لاکھ بیرل یومیہ خام تیل کا تقریباً 27 فیصد حصے کا بھارت خریدار تھا جو دنیا میں تیل کا تیسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ اور صارف ہے۔

ہندوستان کی تیل کی درآمدات عام طور پر دسمبر اور جنوری میں بڑھتی ہیں کیونکہ سرکاری ریفائنریز حکومت کی طرف سے مقرر کردہ سالانہ پیداواری اہداف کو پورا کرنے کے لیے پہلی سہ ماہی میں دیکھ بھال کے لیے بند ہونے سے گریز کرتی ہیں۔

ہندوستان کے ریفائنرز جو کہ رسد کی لاگت کی وجہ سے شاذ و نادر ہی روسی تیل خریدتے ہیں روسی تیل کے لیے ایک بڑے گاہک بن گئے ہیں۔پچھلے سال فروری میں یوکرین پر حملے کے بعد مغربی ممالک نے اس سے کنارہ کشی اختیار کی تھی۔

اعداد وشمار کے مطابق متحدہ عرب امارات کے بعد جنوری میں کینیڈا ہندوستان کا پانچواں سب سے بڑا تیل فراہم کرنے والا بن گیا۔

ہندوستان کی عراقی تیل کی درآمد جنوری میں سات مہینوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی جو دسمبر کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ تھی اور یہ مقدار 983,000 بیرل یومیہ ریکارڈ کی گئی۔

اعداد وشمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مالی سال کے پہلے دس مہینوں یعنی اپریل سے جنوری تک عراق ہندوستان کو تیل فراہم کرنے والے سب سے بڑے ممالک کی فہرست میں سرفہرست رہا اور اس عرصے میں روس سعودی عرب کے بعد دوسرے نمبر پر آیا تھا اور اب سعودی عرب بھارت کو تیل فراہم کرنے والا تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں