ُترک خاندان کے لیے امید کی کرن،زلزلے کے گیارہ دن بعد 9 بھیڑیں زندہ برآمد

پیاروں کو کھو دینے کے بعد اپنی بھیڑیں زندہ ملیں تو صدمہ کم ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکیہ میں حال ہی میں آنےوالے خوفناک زلزلے کے بعد جہاں بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا ہے وہیں ہزاروں کی تعداد میں مویشی بھی اس آفت میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

جانی ومالی نقصان کے صدمے کے دوران گلہ بانی کے پیشے سے منسلک ایک ترک خاندان کو ناقابل بیان خوشی اس وقت حاصل ہوئی جب اسے معلوم ہوا کہ اس کی بہت سی بھیڑوں کو زلزلے کے 11 دن بعد بچا لیا گیا ہے۔ خاندان کا خیال تھا کہ ان کےمویشی زلزلے کے دوران ہلاک ہوچکے ہوں گے۔

ترکیہ کے محمود اقصو کا تعلق زلزلے سے متاثرہ صوبے غازی عنتاب کے نواحی علاقے نورداگی کے گاؤں بادملی سے ہے۔ اقصو کےخاندان کی گذر بسر کا انحصار ان ہی بھیڑوں پر تھا۔ اسے زلزلےمیں بے پناہ جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس کے کئی پیارے زلزلے میں کھو گئے۔

سرکاری نیوز ایجنسی "اناطولیہ" کے مطابق اقصو کی بیوی اور بچے معجزانہ طور پر زلزلے سے بچ گئے، جب کہ اس کی ماں اور بہن ملبے تلے دب کر دم توڑ گئیں۔

زلزلے سے تباہ ہونے والی 3 منزلہ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر گودام میں موجود چند مویشیوں کو علاقہ مکین نکالنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ 50 بھیڑیں اور بکریاں ملبے تلے دبی رہیں۔

ملبے کے نیچے پھنسے مویشیوں کی آوازیں نہ سننے کے بعد خاندان نے یہ سمجھا کہ وہ مر چکی ہیں، وہاں سے چلے گئے اور دوسری جگہ خیمہ لگا لیا۔

زلزلہ آنے کے گیارہ دن بعد جب اس علاقے سے گذر رہے تھے تو اقصو نے ملبے کے نیچے سے بھیڑوں کے منمنانےکی آوازیں سنی۔

اس نے ریسکیو ٹیموں کو اطلاع دی جنہوں نے فوری امدادی مشن کے تحت ملبے تلے سے 9 بھیڑوں کو زندہ نکال لیا گیا۔

اقصو نے کہا کہ اس نے اپنے بہت سے رشتہ داروں کو اس آفت میں کھو دیا۔ اس مشکل وقت میں اس کی بھیڑوں کو دوبارہ دیکھنے سے اس کی نفسیاتی حالت پر مثبت اثر پڑا ہے۔

اقصو کے بیٹے یاشار اقصو نے کہا کہ وہ زلزلے کے دوران خوفزدہ تھے اور انھیں ان کی بھیڑوں کے ساتھ جدائی پر اضافی دکھ بھی ہوا۔

اس نے کہا کہ وہ زلزلے کے کئی دن بعد ان بھیڑوں سے مل کر بہت خوش ہیں۔

ترکیہ کے ایمرجنسی مینجمنٹ کے سربراہ یونس سیزر نے آج اتوار کو اعلان کیا کہ 6 فروری کو جنوب مشرقی ترکی میں آنے والے زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 40,689 ہو گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں