چین نے کیف سے انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کیں: امریکی عہدہ دار

ڈرونز اکثر تیسرے فریق خریدتے ہیں اور پھر چین سے بھیجے جاتے ہیں: وال سٹریٹ جرنل رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے انکشاف کیا ہے کہ ماسکو نے یوکرین کی سرزمین پر اپنی جنگ میں چینی ڈرون استعمال کیے تھے۔ وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی عہدہ دار نے کہا چین کے ڈرونز کیف سے انٹیلی جنس جمع کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا وہ حکمت عملی، ٹیکنالوجی اور طریقہ کار کو دیکھنے کے قابل ہیں۔ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ڈرون سائبر وارفیئر حملوں کا جواب کیسے دیتے ہیں۔

بڑے پیمانے پر مغربی دباؤ کی مہم کے باوجود جس کا مقصد ماسکو کی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔ پینٹاگون کو خدشہ ہے کہ یہ ڈرون نہ صرف روس کی جنگی کوششوں کو ہوا دیتے ہیں بلکہ چین کو میدان جنگ میں اہم انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنے کا موقع بھی فراہم کر رہے ہیں۔ ڈرون جو سویلین اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں اکثر تیسرے فریق خریدتے ہیں اور پھر چین سے بھیجے جاتے ہیں۔

ڈرون
ڈرون

دوسری جانب چینی ڈرون کمپنی ’’ڈی جے آئی ٹیکنالوجی‘‘ نے واضح کیا ہے کہ وہ میدان جنگ میں سویلین ڈرونز کے استعمال کی مخالفت کرتی ہے۔ کمپنی نے واضح کیا کہ اس نے گزشتہ سال اپریل میں روس اور یوکرین میں اپنی کارروائیاں معطل کر دی تھیں۔ ڈرون انڈسٹری میں مہارت رکھنے والی کمپنی نے وضاحت کی کہ الیکٹرانکس کے طور پر ’’ ڈی جے آئی‘‘ کی مصنوعات بہت سے ملکوں میں صارفین آن لائن خرید سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم صارفین یا اداروں کو روس اور یوکرین کے علاوہ دیگر ممالک یا خطوں میں خریداری کرنے سے نہیں روک سکتے اور پھر انہیں ماسکو اور کیف میں منتقل یا تحفے میں نہیں دے سکتے۔

اس سے قبل یوکرین نے چینی کمپنی ’’ڈی جے آئی ٹیکنالوجی ‘‘ سے ڈرونز بنانا بند کرنے کی اپیل کی تھی تاکہ روسی فوج کے میزائل حملوں میں ان کے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔ یوکرین کے نائب وزیر اعظم میخائیلو فیڈرو نے "ٹویٹر" کے ذریعے کمپنی کو ایک پیغام میں لکھا کہ "روسی افواج" اپنے میزائلوں کی رہنمائی کے لیے ’’ ڈی جے آئی ‘‘ مصنوعات استعمال کر رہی ہیں۔ انہوں نے چینی کمپنی سے یوکرین میں ان ڈرونز کو غیر فعال کرنے کی اپیل کی جو روس، شام یا لبنان میں خریدے اور چالو کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اپنی مصنوعات پر پابندی لگائیں جو روس کو یوکرینیوں کو مارنے میں مدد کر رہی ہیں۔

خیال رہے چینی کمپنی ، جس کا صدر دفتر ہانگ کانگ کے قریب شینزین میں ہے، سویلین ڈرون بنانے والی بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے ۔ ان ڈرونز کو فوٹوگرافرز، کمپنیاں اور شوقین افراد استعمال کرتے ہیں۔ یہ کمپنی ٹیکنالوجی میں بھی ایک علمبردار ہے جو سیٹلائٹ نیویگیشن کا استعمال کرتے ہوئے ڈرون کو درست جگہوں تک پہنچاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں