اسرائیلی بستیوں کی تعمیر روکنے کی قرارداد پر ووٹ، یو اے ای پر امریکی دبائو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ نے متحدہ عرب امارات سے کہا کہ وہ پیر کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک مسودہ قرارداد پیش نہ کرے جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آباد کاری کی اپنی تمام سرگرمیاں فوری طور پر بند کر دے، کیونکہ واشنگٹن دونوں فریقوں کے درمیان ڈیل کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ اطلاع اتوار کو امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔

امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے ایک اہم ذریعے کے حوالے سے خبر دی ہے کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے گذشتہ ہفتے ، سلامتی کونسل کی قرارداد روکنے کے اقدامات کے طور پر ، واشنگٹن میں متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید سے ملاقات کی۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے 14 فروری کو ایک بیان میں کہا تھا کہ"اس ملاقات میں خطے میں امن کے حوالے سے پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا، جیسے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تشدد میں اضافے کو روکنے اور امن کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے"

ایکسیوس کے مطابق ہفتے کے آخر میں بلنکن نے عبد اللہ بن زاید سے پھر بات کی اور " قرارداد پر پیش رفت سے پہلے ایک ڈیل پر کام کرنے کے لیے مزید وقت مانگا"

محکمہ خارجہ کے مطابق، ہفتے کے روز، امریکی اعلیٰ سفارت کار نے بھی فلسطینی صدر محمود عباس اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے بات چیت کی اور "مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل اور اس کی عملداری کو خطرے میں ڈالنے والی پالیسیوں کی مخالفت کے لیے امریکی عزم کا اعادہ کیا۔"

انہوں نے دونوں پر زور دیا کہ "اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو ایسے اقدامات کرنے کی فوری ضرورت ہے جس سے امن بحال ہو اور ایسے یکطرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کی جائے گی جن سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو۔"

برطانوی خبر رساں اداے رائیٹرز نے خبر دی ہے کہ اتوار کے روز متحدہ عرب امارات نے سلامتی کونسل کو ایک نوٹ بھیجا ہے کہ وہ اس قرارداد کے مسودے پر پیر کو رائے شماری نہیں کروائے گا۔

رائٹرز کے مطابق نوٹ میں کہا گیا ہے کہ"فریقین کے درمیان مثبت بات چیت کے پیش نظر ہم اب پی آر ایس ڈی کے مسودے پر کام کر رہے ہیں جو اتفاق رائے پیدا کرے گا۔''

سفارتی کوششوں کی یہ لہر اس وقت سامنے آئی ہے جب نیتن یاہو کی حکومت نے حال ہی میں مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے قیام کی اجازت دی اور اس سے ایک ہفتہ قبل پہلے سے قائم بستیوں میں نئے مکانات تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں