ایران جوہری معاہدہ

ایران میں جوہری معائنہ کاروں نے 84 فی صد افزودہ یورینیم کا سراغ لگا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

دوبین الاقوامی سفارت کاروں کے مطابق گذشتہ ہفتے ایران میں بین الاقوامی جوہری ایجنسی کے معائنہ کاروں نے یورینیم کی اعلیٰ سطح پر افزودگی کا سراغ لگایا تھا اوریہ جوہری ہتھیاروں کے لیے درکارمقدار سے صرف تھوڑی سی کم ہے، جس سے اس خطرے کی نشان دہی ہوتی ہے کہ ایران کی بے لگام جوہری سرگرمیاں ایک نئے بحران کا باعث بن سکتی ہیں۔

ویانا میں قائم بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) یہ واضح کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ ایران نے 84 فی صد خالص یورینیم کیسے جمع کیا۔یہ ملک میں معائنہ کاروں کی جانب سے اب تک نشان زد یورینیم کی بلند ترین سطح ہے اور یہ جوہری ہتھیارکے لیے درکار مقدار سے صرف 6 فی صد کم ہے۔ اس سے قبل ایران نے آئی اے ای اے کو بتایا تھا کہ اس کے سینٹری فیوجز یورینیم کو 60 فی صد کی سطح تک افزودہ کرسکتے ہیں،اس سے زیادہ نہیں۔

معائنہ کاروں کو اس بات کا تعیّن کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا ایران نے جان بوجھ کریہ مواد تیار کیا تھا، یا یہ مواد پائپوں کے نیٹ ورک کے اندرغیرارادی طور پر جمع ہوا تھا جو آئیسوٹوپس کو الگ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے سیکڑوں تیزاسپننگ سینٹری فیوجز کوجوڑتا تھا۔ رواں ماہ یہ دوسرا موقع ہے جب بین الاقوامین مبصرین نے ایران کی افزودگی سے متعلق مشکوک سرگرمیوں کا سراغ لگایا ہے۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی 6 مارچ کوویانا میں ہونے والے اپنے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس سے قبل ایران کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق اپنی سہ ماہی حفاظتی رپورٹ تیار کررہی ہے۔اس اجلاس کے ایجنڈے میں ایران کا جوہری کام سرفہرست ہوگا۔

ایک سفارت کار کے مطابق ایران نے نطنزاورفردو کے نزدیک واقع دو تنصیبات میں یورینیم کی افزودگی کی سطح بڑھانے کے اپنے ارادے کے علانیہ اظہاریے سے متعلق مطلوبہ فارم جمع نہیں کرائے ہیں۔

دوسرے سفارت کار کا کہنا تھا کہ اگر یہ مواد غلطی سے سینٹری فیوجزکوچلانے میں تکنیکی دشواریوں کی وجہ سے جمع ہوگیا تھا تو یہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کی پیداوارکے خطرے کی نشان دہی کرتا ہے۔

آئی اے ای اے بارہا کَہ چکی ہے کہ صرف 60 فی صد سطح تک افزودہ یورینیم کو بھی تکنیکی طورپرجوہری ہتھیاروں کے لیے درکار سطح سے ممیّز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ زیادہ ترجوہری پاور ری ایکٹرز 5 فی صد مصفا یورینیم استعمال کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران اورعالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ اس وقت ختم ہو گیا تھا جب 2018 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے یک طرفہ طورپر دستبرداری اختیارکر لی تھی اورایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں عایدکردی تھیں۔اس کے جواب میں ایرانی حکام نے ملک کے جوہری پروگرام میں توسیع کی تھی اور یورینیم کواعلیٰ سطح پر افزودہ کرنا شروع کردیا تھا۔

تہران اس بات سے انکارکرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاربنانے کی کوشش کررہا ہے بلکہ اس کاکہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس نے اس مقصد کے لیے اپنا پروگرام جاری رکھنے کی غرض سے کئی سال کی سفارت کاری کے بعد 2015ء میں عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ طے کیا تھا لیکن وہ اب عملاً متروک ہوچکا ہے۔

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹرجنرل رافیل ماریانو گراسی نے گذشتہ ماہ اس جوہری معاہدے کو’خالی خول‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ایران کے پاس کئی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے کافی جوہری مواد موجود ہے۔اگروہ ایسا کوئی سیاسی فیصلہ کرتا ہے تو وہ جوہری ہتھیار تیار کرسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں