آئیں!یونیسکوکے عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل سعودی حجرہ کی میٹاورس پرسیرکریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب نے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی جگہ حجرہ کو ورچوئل زائرین کے لیے کھول دیا ہے۔

ڈیسنٹرلینڈ کے وسیع آن لائن منظرنامے میں تخلیق کیا گیا،ڈیجیٹل حجرہ ڈیسک ٹاپ سیاحوں کو سائٹ کے قدیم مقبروں کے اندرجانے کا موقع فراہم کرتا ہے ، جوان کے حقیقی دنیا کے لیے قابل رسائی نہیں ہیں۔

شاہی کمیشن برائے العلاء کے ایگزیکٹوڈائریکٹر برائے جدت طرازی احمد ایچ داؤد کا کہنا ہے کہ ’’جب آپ حقیقی دنیا اورحقیقی زندگی میں اس مقام کا دورہ کرتے ہیں توآپ تحفظ کی وجوہات کی بناپر مقبرے کے اندرونی حصے تک رسائی حاصل نہیں کرسکیں گےکیونکہ یہ ایک بہت نازک جگہ ہے جو واضح طور پرایک قدیم مقام ہے‘‘۔

انھوں نے کہاکہ’’اگر آپ میٹاورس پرہماری اسی سائٹ کوملاحظہ کریں گے تو آپ مقبرے میں داخل ہوسکیں گے،اس کے اندرونی حصے کو تلاش کرسکیں گے ، اسے بالکل اسی طرح دیکھ سکیں گے جیسے یہ حقیقی دنیا میں ہے کیونکہ ہم نے اسے لیزراور لیڈار کے ساتھ اسکین کیا ہے تاکہ میٹاورس پر اس کی درست نقل فراہم کی جاسکے جسے آپ اپنے اوتار کے ساتھ وہاں جا کر تلاش کرسکتے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ نباطین ایک عرب تہذیب تھی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے صدیوں پہلے پیداہوئی تھی اورپہلی صدی قبل مسیح میں بطرا سے جنوب میں شمال مغربی سعودی عرب تک پھیلی ہوئی تھی۔یہ قوم تاجروں کے طور پر دولت جمع کرنے کے بعدحجرہ میں آباد ہو گئی۔

حجرہ 50 ہیکٹر سے زیادہ رقبے پرمحیط ہے لیکن میٹاورس ورژن میں لیہان کا مقبرہ دکھایا گیا ہے،جو 22 میٹر لمبا سو سے زیادہ مقبروں میں سے سب سے بڑا اور قدیم نباطیوں کا سب سے بڑا محفوظ مقام ہے۔

شاہی کمیشن برائے العلاء کوامید ہے کہ سائٹ کے ڈیجیٹل ورژن کا دورہ لوگوں کو ذاتی طور پر سفر کرنے کی ترغیب دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں